کیا فرماتے علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے ساتھ چھوٹا بچہ قریب میں کھیل رہاہو ، لیکن دورانِ نماز تشہد پر بیٹھتے ہوئے اگر وہ بچہ نمازی کے گود میں آکر بیٹھ جائے ، حالانکہ اس بچے کے کپڑے یقینی طور پر ناپاک ہیں ، پیشاب وغیرہ کی وجہ سے ، لیکن فی الوقت وہ کپڑے گیلے نہ ہوں ، تو کیا ایسی صورت میں نمازی کی نماز میں خلل آئے گا یا نہیں ؟ مدلل جواب دیکر عند اللہ ماجور ہوں۔
اگر وہ بچہ اس قابل ہو کہ وہ بغیر کسی کے سہارے کے خود کو روک سکتا ہو ، اور اس کے کپڑے بھی نجاست سے گیلے نہ ہوں ، تو ایسی حالت میں اس کے نمازی کے ساتھ مس ہونے اور اس کے گود میں بیٹھ جانے کی وجہ سے نماز پر کوئی اثر نہیں پڑےگا ، تاہم چونکہ یہ خشوع وخضوع کے لۓ مانع ہے ، اس لۓ حتی الامکان ایسی جگہ میں نماز ادا کی جائے ، جہاں بچوں کی پہنچ نہ ہو۔
فی صحيح البخاري : عن أبي قتادة الأنصاري ، «أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يصلي و هو حامل أمامة بنت زينب بنت رسول الله صلى الله عليه و سلم ، و لأبي العاص بن ربيعة بن عبد شمس فإذا سجد وضعها ، و إذا قام حملها» اھ (1/ 109)
و فی حاشية ابن عابدين : ثم إنما يعتبر المانع مضافا إلى المصلي ، فلو جلس الصبي أو الحمام المتنجس في حجره جازت صلاته لو الصبي مستمسكا بنفسه ؛ لأنه هو الحامل لها ، بخلاف غير المستمسك كالرضيع الصغير حيث يصير مضافا إليه ، و بحث فيه في الحلية بأنه لا أثر فيما يظهر للاستمساك ؛ لأن المصلي في المعنى حامل للنجاسة اھ (1/ 317)۔
و فی الفتح القدیر : لو صلیٰ علیٰ الدابة و فی سرجها أو رکابها نجاسة مانعة فجماعة علی أنه لا یجوز قال فی المبسوط و أکثر مشائخنا جوزوا لما فی الکتاب و الدابة أشد من ذلك یعنی أن باطنها محل النجاسة اھ (۱/ ۱۶۹)۔
و فی الفتاویٰ التاتارخانیة : و إذا نام الکلب علی حصیر المسجد إن کان یابساً لا یتنجس و إن کان رطباً و لم یظهر أثر النجاسة فیه فکذالك اھ (۱/ ۲۹۶)۔