ایک جگہ پر ایک شخص ہے ، جس کی شرعی داڑھی ہے، لیکن قرآن کی تلاوت میں مخارج اور تجوید نہیں جانتا اور وہاں ایک اور شخص جو حافظ ہے اور قاری ہے، لیکن داڑھی مونڈتا ہے، تو ان میں امامت کا حقدار کون ہے؟ داڑھی مونڈنے والا دلیل دیتا ہے کہ " اقرأهم لکتاب اللہ فإن کانوا سواء فاعلمهم بالسنة" الخ
جبکہ داڑھی والے کا کہنا ہے کہ فاسق (داڑھی مونڈنے والے) پر متبعِ سنت کو ترجیح ہے امامت کے لۓ ، برائے مہربانی مدلل جواب کی نشاندہی فرمائیں۔
مذکور متبعِ سنت شخص اگر قرأت صحیح اور درست طریقے سے کر لیتا ہو ، اور قرأت میں ایسی غلطیاں نہ کرتا ہو ، جس سے نماز فاسد ہو جاتی ہے ، تو وہ داڑھی منڈے قاری صاحب سے زیادہ امامت کا مستحق ہے، کیونکہ داڑھی منڈا" فاسقِ مجاہر "ہے۔
فی الدر المختار : و لذا يحرم على الرجل قطع لحيته ، و المعنى المؤثر التشبه بالرجال اهـ . (6/ 407)۔
و فی الفتاویٰ التاتارخانیة : و یکره أن یکون الإمام فاسقا ، و یکره للرجال أن یصلوا خلفه (إلی قوله) و یجوز الإقتداء بمن کان معروفا بأکل الربا و لکن یکره اھ (۱/ ۶۰۳)۔