السلام علیکم! نماز کے درمیان رکعت کی گنتی بھول جانے پر سجدہ سہو کرنا ہو اور التحیات کے بعد درود شریف بھی پڑھ لیا ، تو کیا سیدھی طرف سلام پھیر کر سجدۂ سہو کرنا درست ہے؟
واضح ہو کہ نماز میں رکعتوں کی تعداد میں شک ہونے کی وجہ سے مطلقاً سجدۂ سہو لازم نہیں آتا ، بلکہ اس میں کچھ تفصیل ہے ، اس لۓ سائل کو جو صورت پیش آئی ہے اس کی وضاحت کر کے حکمِ شرعی معلوم کر سکتا ہے ، جبکہ سجدۂ سہو لازم ہونے کی صورت میں تشہد (التحیات) پڑھنے کے بعد دائیں طرف سلام پھیر کر سجدۂ سہو کرلے ، تاہم اگر کسی نے بھولے سے تشہد کے بعد اور درود شریف پڑھنے کے بعد سجدۂ سہو کیا ، تو اس سے بھی سجدہ ادا ہو جائےگا اور نماز درست ہوگی۔
فی الدر المختار : (یجب بعد سلام واحد عن يمينه فقط) لأنه المعهود ، و به يحصل التحليل و هو الأصح بحر عن المجتبى . و عليه لو أتى بتسليمتين سقط عنه السجود ؛ و لو سجد قبل السلام جاز و كره تنزيها . و عند مالك قبله في النقصان و بعده في الزيادة ، فيعتبر القاف بالقاف و الدال بالدال (سجدتان . و) يجب أيضا (تشهد و سلام) لأن سجود السهو يرفع التشهد دون القعدة لقوتها اھ (2/ 78)۔
و فی شرح الوقایة : و أما کون سجدة السهو بعد السلام ، فلما فی الکتب الستة عن عبد اللہ بن مسعود قال : (إلی قوله) فسجد سجدتین بعد ما سلم اھ (۱/ ۴۳۳)۔
و فی الدر المختار : و لو سجد قبل السلام جاز و کره تنزیها اھ (۲/ ۷۸)۔
و فی المبسوط للشیبانی : قلت أرأیت رجلا صلی فسها فی صلاته فلم یدر أثلاثا صلی أو أربعا و ذلك أول ما سها قال علیه أن یسقبل الصلاة ، الخ (۱/ ۳۷۱)۔