میرا نام ۔۔۔۔ ہے اور میری والدہ کا نام ۔۔۔۔ ہے، میں وظیفے کی کتابوں سے دیکھ کر دعائیں پڑھتی ہوں، قرآنی سورتیں پڑھتی ہوں، ایک سے زیادہ بار جیسے سورۃ رحمٰن، سورۃ مزمل تین بار یا پانچ بار ، جب بے چینی ہوتی ہے اور دل گھبراتا ہے تو میں دعائیں پڑھتی ہوں، جب کوئی کام بگڑتا نظر آتا ہے تو دعا پڑھتی ہوں اور وہ کام بھی ٹھیک ہو جاتا ہے، عام حالات میں بھی میں یہ پڑھتی ہوں، مجھے پڑھنے سے سکون ملتا ہے، مجھے بچپن سے ڈر لگتا ہے اندھیرے سے اور مجھے رات میں نیند صحیح نہیں آتی اور کبھی کبھار نیند میں ڈر بھی جاتی ہوں تو جب آنکھ کھولتی ہے تو آیۃ الکرسی پڑھ کے سونے کی کوشش کرتی ہوں یا اپنے سونے کی جگہ بدلتی ہوں، یہ دعائیں میں پچھلے دس سال سے پڑھ رہی ہوں، لگاتار نہیں ، بس کبھی کوئی دعا کبھی کوئی سورت، کیا ان دعاؤں کو پڑھنے کی اجازت لازمی ہوتی ہےاور کیا ان کا کوئی نقصان ہوتا ہے؟
وظائف کی مستند کتابوں میں درج اوراد اور دعائیں پڑھنے کیلئے شرعاً اجازت کی ضرورت تو نہیں ہے، مگر اپنے طور پر وظائف کو پڑھنے اور اس کو اپنا مشغلہ بنانے سے بعض مرتبہ فائدہ کے بجائے نقصان ہوتا ہے، اس لئے کسی معتبر عالم و عامل سے پوچھ کر اپنے مقصد کے وظائف پڑھنے کا اہتمام چاہیے، جبکہ اس سلسلہ میں مناجاتِ مقبول کو اپنا معمول بنانا مفید رہے گا۔
وفي رد المحتار: وفي المجتبى: اختلف فی الاستشفاء بالقرآن بأن يقرأ على المريض أو الملدوغ الفاتحة، أو يكتب فی ورق ويعلق عليه أو في طست ويغسل ويسقى. وعن "النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه كان يعوذ نفسه" قال - رضي الله عنه -: وعلى الجواز عمل الناس اليوم، اھ (6/364)