السلام علیکم مفتی صاحب! میرا نام جنید، پیشہ اسٹوڈنٹ، تعلیم ایم اے، شہر حیدرآباد، ذات میمن ہے، حضرت امید کرتا ہوں آپ بخیریت ہونگے ان شاء اللہ، حضرت میرا مسئلہ یہ ہے کہ مجھ میں اعتماد بالکل نہیں، مقصد کہ فرض کریں مجھے ایک چیز اچھے سے آرہی ہوتی ہے اور اگر میں نے نیا بندہ دیکھ لیا، زیادہ لوگ دیکھ لیے، انٹر ویو دے رہا ہوتا ہوں، تو وہ چیز بھی میں نہیں بیان کر پاتا، اس وجہ سے میں بہت سی نوکریاں قابلیت کے باوجود گنوا بیٹھا ہوں، از راہِ کرم کچھ وظیفہ یا مشورہ مہیا فرمائیں تا کہ اللہ پاک میرے لیے آسانی فرمائیں، اللہ پاک آپ کا حامی و ناصر ہو، جواب کا انتظار رہے گا۔ جزاک اللہ خیرا ً!
دل کی مذکور کیفیت کے علاج کے لئے مندرجہ ذیل آیت کو لکھ کر تعویذ بنائیں اور گلے میں اس طرح لٹکائیں کہ وہ تعویذ عین دل پر رہے، بلکہ اس کو کپڑے یا دھاگے سے باندھ لیں، تا کہ دل پر سے ہٹنے نہ پائے ، ان شاء اللہ مفید رہے گا۔
”وَلِيَرْبِطَ عَلى قُلُوبِكُم وَيُثَبِّتَ بِهِ الأَقدام“ (انفال آیت: ۱۱، از اعمال قرآنی: ۲۵)