احکام نماز

سجدۂ تلاوت ، تکبیرِ تحریمہ کے رفعِ یدین نیز جمعہ کے خطبہ کے دوران وقفہ اور جلسہ کی حکمتیں

فتوی نمبر :
35762
| تاریخ :
عبادات / نماز / احکام نماز

سجدۂ تلاوت ، تکبیرِ تحریمہ کے رفعِ یدین نیز جمعہ کے خطبہ کے دوران وقفہ اور جلسہ کی حکمتیں

۱۔سجدۂ تلاوت کیوں کرتے ہیں؟
۲۔رفعِ یدین کب اور کیوں شروع ہوا اور کب ختم ہوا ؟
۳۔جمعہ کے خطبہ کے دوران وقفہ کب اور کیوں شروع ہوا ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

۱۔جن آیتوں میں سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ان کے بعد امتثالِ امر کی خاطر ،سجدۂ تلاوت ادا کرنا واجب ہے اور وہ آیاتِ سجدہ جن میں کفار کی نخوت و انانیت اور سرکشی کا ذکر ہے تو کفار کی مخالفت کی خاطر ، ان آیات کے بعد سجدہ کیا جاتا ہے اور وہ آیاتِ سجدہ جن میں انبیاءِ سابقہ یا ملائکہ کے سجدہ کا ذکر ہو ، تو ان کی اقتداء کی خاطر ان آیات کے بعد سجدہ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے، جبکہ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں کہ اس کی حکمت یہ ہے کہ غور سے دیکھیے ، تو رکوع و سجود ان دونوں حالتوں پر دلالت کرتے ہیں جو بندۂ سراپا اطاعت کو ، وقتِ سوال و استماعِ مژدۂ نجاح ، حاجت ہونی چاہیۓ ، اور جب احکم الحاکمین کا پروانہ قرآن کریم پڑھا گیا تو اس کی امتثال کے لۓ جھکنا اور سجدہ کرنا ، جو اطاعت و فرمانبرداری پر دلالت کرتے ہیں ، لازم ہوا ، کیونکہ جب حکام کی طرف سے رعیت کو حکم نامہ آتا ہے اور ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو اس حکم نامہ کی اطلاع یابی و اطاعت کا ایک نمونہ ظاہر ہوا کرتا ہے ، سو رکوع اور سجود اس حکمِ الہٰی کی اطاعت پر دال ہیں جو ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے۔ (احکام اسلام عقل کی نظر میں صفحہ نمبر ۶۱)۔
۲۔جبکہ نماز کے اندر تکبیرِ تحریمہ کے لۓ تو سب فقہاءِ کرام کے ہاں رفعِ یدین سنت ہے ، البتہ ابتداءِ اسلام میں دوسرے افعالِ نماز مثلًا رکوع سے پہلے یا بعد میں رفعِ یدین کرنا ، اسی طرح سجدہ میں جاتے وقت ، بلکہ ہر رفع و خفض میں ہاتھ اُٹھانا ، اگرچہ بعض احادیث میں ثابت ہے ، مگر آخری عمر میں آپﷺ کا عمل ترکِ رفع کا رہا ہے ، حتیٰ کہ بعض احادیث میں صراحۃً ناپسندیدگی اور اس پر ممانعت وارد ہوئی ہے ، اس لۓ بعض علماء نے ترکِ رفع والی احادیث کو ناسخ قرار دیا ہے، نیز قرآن کریم میں نماز کے اندر قنوت وسکون کا حکم آیا ہے ، اس لۓ آپ نے نماز میں حرکت کم فرما دی تھی۔
جہاں تک تکبیرِ تحریمہ کے وقت رفعِ یدین کی حکمت کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں حکیم الامت اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں کہ تکبیرِ تحریمہ کے وقت رفعِ یدین میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ میں کسی چیز کا مالک نہیں ، سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی ہیں ، وہ ان کا مالک ہے ، میں خالی ہاتھ محتاج و فقیر تیری عطاء و بخشش کا طالب و امیدوار بن کر ، تیرے حضور میں پیش ہوتا ہوں ، اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ میں نماز کی طاقتوں اور قوتوں سے خالی ہوں ، سب قوتوں کا تو ہی مالک ہے ، پس اس کارِ خیر اور عبادت میں میری مدد فرما۔ (احکام اسلام عقل کی نظر میں صفحہ نمبر ۵۷)۔
۳۔نیز دو خطبوں کے درمیان بیٹھنا مسنون ہے اور اس میں حکمت یہ ہےکہ نبی ﷺ نے جمعہ کے دو خطبوں اور پھر اذان کے درمیان میں جلسہ کرنے کو اس لۓ مسنون فرمایا ہے کہ امرِ مطلوب بھی پورا پورا حاصل ہوجاوے اور خطیب کو بھی آرام مل جاوے۔ (احکام اسلام عقل کی نظر میں صفحہ نمبر ۸۳)۔

مأخَذُ الفَتوی

فی تفسير روح المعاني : قيل : و قد جاء الأمر بالسجدة لآية أمر فيها بالسجود امتثالا للأمر ، أو حكى فيها استنكاف الكفرة عنه مخالفة لهم ، أو حكى فيها سجود نحو الأنبياء عليهم الصلاة و السلام تأسيا بهم اھ (5/ 144)۔
و فی تفسير القاسمي : الخامس- السجدة المشروعة ، إن كانت لآية ، أمر فيها بالسجود فللأمر ، أو حكى فيها استنكاف الكفرة عنه ، فلمخالفتهم و إرغامهم ، أو حكي فيها سجود الأنبياء أو الملائكة ، فللتأسي بهم- كذا في العنايۃ . (5/ 250)۔
فی سنن الترمذي : عن علقمة ، قال : قال عبد الله بن مسعود : ألا أصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم؟ فصلى ، فلم يرفع يديه إلا في أول مرة . و في الباب عن البراء بن عازب . حديث ابن مسعود حديث حسن . و به يقول غير واحد من أهل العلم من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ، و التابعين. و هو قول سفيان الثوري ، و أهل الكوفة . اھ (1/ 343)۔
و فی بذل المجهود : ثم ذكر عن البخاري قال : روينا عن سبعة عشر نفرا من الصحابة أنهم كانوا يرفعون أيديهم بعد الركوع ، و ذكر منهم ابن عمر . قال في "الجوهر النقي : قلت : قد روي عنه خلاف ذلك ، قال ابن أبي شيبة في المصنف : ثنا أبو بكر بن عياش ، عن حصين ، عن مجاهد قال : ما رأيت ابن عمر يرفع يديه إلا أول ما يفتتح ، و هذا سند صحيح . (إلی قوله) و حديث ابن أبي الزناد خطأ ، فقد ارتفع بذلك أن يجب لكم بحديث خطأ حجة ، و إن كان ما روى ابن أبي الزناد صحيحا لأنه زاد على ما روى غيره ، فإن عليا لم يكن ليرى النبي - صلى الله عليه و سلم - يرفع ، ثم يترك هو الرفع بعده ، إلا و قد ثبت عنده نسخ الرفع ، فحديث علي إذا صح ففيه أكثر الحجة لقول من لا يرى الرفع ، انتهى (إلی قوله) و هذا الفعل من الأفعال التي تقع في الصلوات في اليوم و الليلة مرات كثيرة بحيث لا يمكن أن يخفى على أحد ممن في الصلاة ، فلا يمكن أن يكون تركه لأجل أن علمه لم يحط به ، و لا لأنه تركه سهوا و نسيانا، و لا لكونها سنة غير مؤكدة خصوصا من ابن عمر ، فإنه كان مقتفيا لآثار النبي - صلى الله عليه و سلم - من قيامه و قعوده من العادات فضلا عن العبادات . فقد روى البخاري في صحيحه أن ابن عمر -رضي الله عنهما- يتحرى أماكن من الطريق ما بين مكة و المدينة ، و يصلي فيها ، و قد كان هذا من العادات لا من العبادات ، فكيف يمكن أن يترك ما رآه من رسول الله - صلى الله عليه و سلم - فعله عبادة ؟ إلا بأنه ثبت نسخه عنده ، و قد كان -رضي الله عنه - إذا كان بمكة لم يهل قبل يوم التروية ، و الناس يهلون إذا رأوا الهلال ، و يصبغ بالصفرة ، و يلبس النعال السبتية ، و كل ذلك لشدة لزومه و اتباعه لأفعال رسول الله - صلى الله عليه و سلم -، فكيف يمكن أن يترك فعلا فعله رسول الله - صلى الله عليه و سلم ؟ . و كذلك عمر و علي و ابن مسعود -رضي الله تعالى عنهم- لم يكونوا يتركون بهذه الوجوه السخيفة ، فليس له وجه إلا بأنه ثبت عندهم أنه - صلى الله عليه و سلم - ما تركه إلا نسخا ، و هذا هو الموافق للأصل ، فإن الأصل في الصلاة السكون لقوله عليه الصلاة و السلام : "اسكنوا في الصلاة" كما رواه مسلم (إلی قوله) نسخها و نهی عنه و یدل علی ذلك حدیث تمیم ابن طرفۃ عن جابر بن سمرة الذی أخرجه مسلم و قد تقدم سیاقه و البحث اھ (۲/ ۱تا ۱۰ اور ۲۸)۔
و فی اعلاء السنن : عن جابر بن سمرة رضی اللہ عنه قال : کانت للنبی صلی اللہ علیه و سلم خطبتان یجلس بینهما یقرء القرآن و یذکر الناس رواہ مسلم اھ (۸/ ۲۸۳)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابراہیم خلیل الطوخی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 35762کی تصدیق کریں
0     725
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات