مباحات

کیا روضہ اقدس پر جا کر حضور سے دعا کی درخواست کی جاسکتی ہے؟

فتوی نمبر :
33323
| تاریخ :
2018-03-03
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

کیا روضہ اقدس پر جا کر حضور سے دعا کی درخواست کی جاسکتی ہے؟

السلام علیکم محترم مفتی صاحب! کیا جب روضۂ مبارک ﷺ پر حاضری ہو، تو آنحضرت ﷺ سے اس طرح دعا کروا سکتے ہیں،”یار سول اللہﷺ! میرے فلاں کام کیلئے اللہ تعالیٰ سے دعا فرما لیجیے“۔
میں جب حج پر گیا تھا تو ہمارے گروپ کے امیر مفتی صاحب (دیوبندی مسلک) نے اس طرح دعا کرنے کا کہا تھا اور دلیل یہ دی تھی کہ یہاں پر آپ ﷺ سے اسی طرح دعا کر وا سکتے ہیں جیسے کہ آپ ﷺ کی زندگی میں، کیونکہ آپ ﷺ اپنی قبر میں زندہ ہیں ۔
جبکہ میں نے ابھی ”تاریخ دعوت و عظیمت جلد ۲ (مولانا ابوالحسن علی ندوی)“ میں دیکھا کہ”امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ“ نے مذکورہ بالا طریقے سے دعا کروانے کی نفی فرمائی ہے، اور ”مصنف رحمۃ اللہ علیہ“ نے بھی ”امام صاحب“ کے فتویٰ کی نفی نہیں فرمائی، براہِ کرم مدلل جواب عطا فرمائیں کہ ”اہلِ سنت و الجماعت علماءِ دیوبند“ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺدنیا سے پردہ فرمانے کے بعد بھی اپنی قبر مبارک میں حیات ہیں، اس لئے اگر کوئی شخص روضۂ مبارک پر حاضر ہو کر درود و سلام پیش کرتا ہے تو آپ ﷺ اس کو سنتے ہیں، اور سلام کا جواب بھی دیتے ہیں ، چنانچہ اگر کوئی شخص سوال میں مذکور طریقے سے روضۂ مبارک پر حاضر ہو کر بغیر کسی عقیدۂ فاسد کے آپ ﷺ سے شفاعت یا دعا کی درخواست کرتا ہے تو یہ شرعاً بھی جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، جبکہ شفاعت یا دعا کی درخواست کرنے کے مسئلہ میں ”علامہ ابن تیمیہ و غیرہ“ کامذ ہب ”جمہور امت“ سے مختلف ہے، جس کی تصریح خود ”علامہ ابو الحسن علی ندوی“ نے بھی اپنی مذ کو ر کتاب میں کی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال الله تعالى: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَحِيمًا﴾ (النساء: 64)
وفي تفسير القرطبي: (ولو أنهم إذ ظلموا أنفسهم جاؤك) روى أبو صادق عن علي قال: قدم علينا أعرابي بعد ما دفنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بثلاثة أيام، فرمى بنفسه على قبر رسول الله صلى الله عليه وسلم وحثا على رأسه من ترابه، فقال: قلت يا رسول الله فسمعنا قولك، ووعيت عن الله فوعينا عنك، وكان فیما أنزل الله عليك (ولو أنهم إذ ظلموا أنفسهم) الآية، وقد ظلمت نفسي وجئتك تستغفر لي. فنودي من القبر إنه قد غفر لك اھ (5/ 265)
وفي تفسير النسفی: وما أرسلنا من رسول إلا ليطاع بإذن الله ولو أنهم إذ ظلموا أنفسهم جاءوك فاستغفروا الله واستغفر لهم الرسول لوجدوا الله توابا رحيما (٦٤)
(وما أرسلنا من رسول) أي رسولا قط }ليطاع بإذن الله{ بتوفيقه فی طاعته وتيسيره أو بسبب إذن الله فی طاعته وبأنه أمر المبعوث إليهم بأن يطيعوه لأنه مؤد عن الله فطاعته طاعة الله ومن يطع الرسول فقد أطاع الله }ولو أنهم إذ ظلموا أنفسهم{ بالتحاكم إلى الطاغوت }جاؤوك{ تائبين من النفاق معتذرين عما ارتكبوا من الشقاق }فاستغفروا الله{ من النفاق والشقاق }واستغفر لهم الرسول{ بالشفاعة لهم والعامل فی إذ ظلموا خير أن وهو جاءوك والمعنى ولو وقع مجيئهم فی وقت ظلمهم مع استغفارهم واستغفار الرسول }لوجدوا الله توابا{ لعلموه توابا أي لتاب عليهم ولم يقل واستغفرت لهم وعدل عنه إلى طريقة الالتفات تفخيما لشأنه صلى الله عليه وسلم وتعظيما لاستغفاره وتنبيها على أن شفاعة من اسمه الرسول من الله بمكان }رحيما{ بهم قيل جاء أعرابي بعد دفنه عليه السلام فرمى بنفسه على قبره وحثا من ترابه على رأسه وقال يا رسول الله قلت فسمعنا وكان فیما أنزل عليك ولو أنهم إذ ظلموا (النساء (٦٥/٦٩) أنفسهم الآية وقد ظلمت نفسي وجئتك أستغفر الله من ذنبي فاستغفر لي من ربي فنودي من قبره قد غفر لك اھ (2/ 362)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 33323کی تصدیق کریں
0     936
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات