کیا”ناد علی“پڑھنا جائز ہے؟ مولانا شاہ ولی اللهؒ نے بھی پڑھا تھا، ”علی“ نام اللہ کا ہے کیا؟ اللہ کا تصور کر کے پڑھ سکتے ہیں؟ کیا مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا کوئی فتویٰ مل سکتا ہے اس سلسلے میں ؟
ناد علی“ کا وظیفہ پڑھنا اگرچہ فی نفسہٖ کسی تاویل کی بناء پر جائز ہو، مگر ابہامِ شرک کی وجہ سے اس کے پڑھنے سے احتراز لازم ہے۔
جبکہ حضرت شاہ ولی اللهسے اس کے پڑھنے کا کوئی ثبوت ہمیں نہیں مل سکا اور حضرت تھانوی کا کوئی فتویٰ بھی نظر سے نہیں گزرا۔