تصویر سازی

کارٹون بنانے کا حکم - تصویر سازی

فتوی نمبر :
29562
| تاریخ :
معاشرت زندگی / فنون و حرفت / تصویر سازی

کارٹون بنانے کا حکم - تصویر سازی

کیا کارٹون بنانا جائز ہے یا نہیں؟ اگر ڈرائنگ اتنی تفصیل کے ساتھ نہ ہو کہ وہ اصلی انسان کی طرح لگیں جیسے نارمل کارٹون ہوتے ہیں تو کیا پھر بھی جائز نہیں ہے؟ اور اگر آپ کی نیت ہی نہیں ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی مخلوق بنانے کی کوشش کریں تو پھر کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر یہ کارٹون واضح طور پر انسان یا کسی دوسرے جاندار کی شکل میں نہ ہوں اور نہ کسی قسم کی بے حیائی پر مشتمل ہوں تو پھر انہیں دیکھنے اور ڈرائنگ کرنے( بنانے) میں شرعاً کوئی مضائقہ نہیں بلکہ جائز ہے، البتہ ان جیسی چیزوں کے جائز اور ناجائز ہونے کا مدار نیت پر نہیں بلکہ احکام شرع پر ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی البحر: ’’ولا بأس بہ علی بساط فیہ تصاویر لکن لا یسجد علیہا، ثم قال: ثم التمثال إن کان علی وسادۃ أو بساط لا بأس باستعمالہا وإن کان یکرہ اتخاذہ‘‘۔۔۔۔۔۔ (۲/ ۲۸)۔
وفی فقہ البیوع: ’’ثم الظاہر أن من أجاز ہذہ اللعب للبنات فإنما أجاز اللّعب الصغیرۃ التی لا تشابہ الأصنام (۱/ ۳۲۰) واللہ الہادی إلی الصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
مفتی محمد دین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 29562کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات