کیا کارٹون بنانا جائز ہے یا نہیں؟ اگر ڈرائنگ اتنی تفصیل کے ساتھ نہ ہو کہ وہ اصلی انسان کی طرح لگیں جیسے نارمل کارٹون ہوتے ہیں تو کیا پھر بھی جائز نہیں ہے؟ اور اگر آپ کی نیت ہی نہیں ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی مخلوق بنانے کی کوشش کریں تو پھر کیا حکم ہے؟
اگر یہ کارٹون واضح طور پر انسان یا کسی دوسرے جاندار کی شکل میں نہ ہوں اور نہ کسی قسم کی بے حیائی پر مشتمل ہوں تو پھر انہیں دیکھنے اور ڈرائنگ کرنے( بنانے) میں شرعاً کوئی مضائقہ نہیں بلکہ جائز ہے، البتہ ان جیسی چیزوں کے جائز اور ناجائز ہونے کا مدار نیت پر نہیں بلکہ احکام شرع پر ہے۔
وفی البحر: ’’ولا بأس بہ علی بساط فیہ تصاویر لکن لا یسجد علیہا، ثم قال: ثم التمثال إن کان علی وسادۃ أو بساط لا بأس باستعمالہا وإن کان یکرہ اتخاذہ‘‘۔۔۔۔۔۔ (۲/ ۲۸)۔
وفی فقہ البیوع: ’’ثم الظاہر أن من أجاز ہذہ اللعب للبنات فإنما أجاز اللّعب الصغیرۃ التی لا تشابہ الأصنام (۱/ ۳۲۰) واللہ الہادی إلی الصواب