کیا تمام قسم کے تصویریں حرام ہیں ؟ یا ان میں کچھ صحیح اور غلط میں فرق ہے؟ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے تصویروں کو حرام کیوں قرار دیا ہے؟ کیا وجہ تھی؟ اور اس بارے میں کوئی حدیث ہے تو بیان فرمائیں۔
صرف جاندار کی تصویر بنانے کو شریعت میں حرام کیا گیا ہے چاہے ہاتھ سے بنائی جائے یا کسی مشین کے ذریعے، البتہ ضرورت کی وہ تصاویر جن کا بنوانا قانونا لازم ہو، ان کے بنانے، بنوانے اور باقی رکھنے کی بامر مجبوری گنجائش ہے۔ اس کے بعد جاننا چاہئیے کہ احکام شرعیہ میں اگر چہ بہت سی حکمتیں بھی پوشیدہ ہوتی ہیں، مگر ان کے سمجھنے یا جاننے میں کامیابی اور نجات اخروی و دنیوی مضمر نہیں، بلکہ اس کا تعلق احکام شرعیہ کو ان کے اسلوب شرعی کے موافق بجالانے پر ہے اور ایک مسلمان ہونے کے ناطے اسی کا اہتمام چاہئیے ، جبکہ فقہاءِ کرام نے تصویر بنانے یا رکھنے کے حرام ہونے کی کچھ حکمتیں بھی بیان فرمائی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس میں بت پرستی کا دروازہ کھلنے کا قوی اندیشہ ہے، جیسا کہ گذشتہ زمانوں میں بھی ایسا ہواتھا ،اس لئے اس کے بنانے یا ر کھنے سے احتراز لازم ہے ۔
كما في مشكاة المصابيح: وعن عبد الله بن مسعود قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «أشد الناس عذابا عند الله المصورون» متفق عليه اھ (2/ 1274)
و فيها أیضا: عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أتاني جبريل عليه السلام قال: أتيتك البارحة فلم يمنعني أن أكون دخلت إلا أنه كان على الباب تماثيل وكان في البيت قرام ستر فيه تماثيل اھ (2/ 1275)
و في تكملة فتح الملهم : اما اتخاذ الصورة الشمسية للضرورة او الحاجة کحاجتها فی جواز السفر و في الناشرة، و في البطاقة الشخصیة، أو في مواضع یحتاج فیها إلی معرفة هویة لمرء فینبغی أن مرخصا فیه، فإن الفقهاء رحمھم اللہ استثنوا مواضع الضرورة من الحرمة اھ (۴/ ۱۶۴)
و في حجة الله البالغة: وثانيهما أن المخامرة بالصور واتخاذها وجريان الرسم بالرغبة فيها يفتح باب عبادة الأصنام وينوه أمرها ويذكرها لأهلها، وما نشأت عبادة الأصنام في أكثر الطوائف إلا من هذه اھ (2/ 297)