میں آپ سے ایک سوال کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں ، میرا ایک دوست ہے ، اور وہ پیشے کے اعتبار سے وکیل ہے، ان کے پاس ایک پرانی گاڑی ہے اور فلیٹ ہے، گاڑی قرض لے کر خریدی ہے آنے جانے کے لیے، وہ مالیاتی اعتبار سے کافی کمزور ہے، کئی دفعہ گھر میں کھانا نہیں پکا سکتا ، اسکول کی فیس اکثر جمع نہیں کراسکتا ، اس کے تین بچے ہیں ، ازراہ کرم مجھے یہ بتائیں کہ کیا میں اس کو زکوٰۃ کے پیسے دے سکتا ہوں؟ اور کیا اس کے علاوہ صدقہ خیرات بھی دیا جاسکتا ہے؟
سائل کے دوست ( وکیل ) کے ذمہ واجب الادا قرض کو منہا کرنے کے بعد وہ صاحب نصاب ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کا مالک نہ رہتا ہوں اور وہ سید بھی نہ ہو ، تو وہ مستحقِ زکوٰۃ ہے ایسے شخص کو صدقاتِ واجبہ اور زکوٰۃ دیکر تعاون کرنا جائز اور درست ہے۔
کما فی الدرالمختار: (هو فقير، وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة. الخ (2/339)۔
وفی البحر الرائق: (قوله هو الفقير والمسكين، وهو أسوأ حالا من الفقير) أي المصرف الفقير والمسكين والمسكين أدنى حالا (الی قولہ) والأولى أن يفسر الفقير بمن له ما دون النصاب الخ (2/258)۔
و فی ردالمحتار: باب المصرف (قوله: أي مصرف الزكاة والعشر) يشير إلى وجه مناسبته هنا، (الی قولہ) وهو مصرف أيضا لصدقة الفطر والكفارة والنذر وغير ذلك من الصدقات الواجبة كما في القهستاني الخ (2/339)۔