مجھ پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے لیکن میں پھر بھی ہر سال اپنی ٹوٹل محفوظ رقم کا پانچ فیصد زکوٰۃ یا صدقہ کردیتا ہوں، اس بار بھی میں نے ایسا ہی کیا لیکن جس کو پیسے دیے ، اس کو بتایا نہیں کہ یہ زکوٰۃ کے پیسے ہیں، کہ کہیں اس کی دل آزاری نہ ہوجائے، لیکن جیسے ہی اس شخص کی ضرورت پوری ہوگئی اس نے پیسے مجھے واپس کردیے ، کیونکہ اس کو ادھار سمجھ رہاتھا، اب میرے لئے کیا حکم ہے کہ میں یہ رقم اپنے پاس رکھ لوں یا اس کو دوبار اللہ کی راہ میں دے دوں؟
واضح ہو کہ کسی چیز کو صدقہ کرنے کے بعد واپس لینا شرعاً درست نہیں ، جس سے احترازلازم ہے، اس لیےسائل پر لازم ہے کہ مذکور صدقے کی رقم اسی شخص کو واپس کردے، البتہ اگر بتانے کی ضرورت پیش آجائے تو اس کے سامنے وضاحت کرسکتا ہے۔
کما فی الھدایة: قال: "والصدقة كالهبة لا تصح إلا بالقبض"؛ لأنه تبرع كالهبة "فلا تجوز في مشاع يحتمل القسمة" لما بينا في الهبة "ولا رجوع في الصدقة"؛ لأن المقصود هو الثواب الخ (3/228)۔
وفی بدائع الصنائع: وليس للموهوب له أن يرجع فيه وكذا الصدقة. الخ (6/134)۔
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ: الأول ـ الثواب من الله تعالى: فلا رجوع في الهبة من الفقير بعد قبضها؛ لأن الهبة إلى الفقير صدقة، ويطلب بها الثواب، ولا رجوع في الصدقة. الخ (5/4009)۔