مفتی صاحب! میرا ایک سوال ہے کہ کیا یہ ورد کرنا ٹھیک’’ ناد علیا مظهر العجائب تجدہ عونا لك فی النوائب کل همه، وغمه، سینجلی بنبوتك یا محمد الرسول اللہ بولایتیك یا علی یا علی یا علی‘‘ یہ ایک درود یا ورد طرح کی چیز ہے جو ہمارے ایک دوست ہر عشاء کی نماز کے بعد پڑھتے ہیں؟ اور ان کا ماننا ہے کہ ایک دفعہ مجھ پر جنات کا سایہ تھا تو کسی بزرگ نے کہاکہ یہ پڑھو تو میں نے یہ پڑھا تو میں ٹھیک ہوگیا، براہ مہربانی اگر یہ ٹھیک ہے تو اس کی وضاحت کرکے ہماری بھی رہنمائی فرمائیں جزاک اللہ۔
نادِ علی کا مذکور وظیفہ چونکہ شرکیہ جملہ پر مشتمل ہے، اس لیے کسی مسلمان کے لیے ’’ناد علی‘‘ کا مذکور وظیفہ پڑھنا جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے، جبکہ حل مشکلات کے لیے اور بھی بہت سے وظائف مسنونہ احادیث میں بیان ہوئے ہیں، ان میں سے کسی کو موقع ومناسبت کے لحاظ سے کسی معتبر عالم سے معلوم کرکے پڑھا جاسکتاہے۔
فی مشکاۃ المصابیح: عن عوف بن مالک الأشجعی - رضی اللہ عنہ - قال: کنا نریٰ فی الجاهلية فقلنا یا رسول اللہ! کیف تری فی ذلك؟ فقال: اعرضوا علیّ رقاکم، لا بأس بالرقی مالم یکن فیه شرک۔ اھـ (کتاب الطب والرقی: ص۳۸۸) واللہ أعلم بالصواب!