مصارف زکوۃ و صدقات

زکوٰۃ کی ادائیگی میں سال کا تعین کس طرح کیا جائے ؟

فتوی نمبر :
27257
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / مصارف زکوۃ و صدقات

زکوٰۃ کی ادائیگی میں سال کا تعین کس طرح کیا جائے ؟

میں ایک شخص سے کچھ رقم مانگتا ہوں، اور وہ اس وقت اس حالت میں نہیں ہے کہ وہ مجھے ادا کرسکے، اور اس کے گھر میں بیماری بھی ہے اور بہت سی پریشانیوں میں بھی مبتلا ہے ،تو کیا میں زکوٰۃ کے مد سے اس کے اس قرض کی ادائیگی کرسکتا ہوں؟
2: زکوٰۃ فرض اس مال پر ہوتی ہے، جب اس پر ایک سال کی مدد گزر جائے، مگر مجھے یہ سمجھ نہیں آرہا کہ ایک سال کا تعین کس طرح کیا جائے گا؟
3: اسلام میں غلام /لونڈی رکھنے کا تصور پایا گیا ہے جیسے کہ پہلے زمانے میں ہوا کرتا تھا، تو کیا آج اس ماحول میں بھی ہم غلام یا لونڈی رکھ سکتے ہیں ، اور ہم اس وقت رکھنا چاہیں ، تو کس طرح رکھیں گے، اور ان کے حقوق کیا ہونگے ہم پر۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

شخص مذکور اگر مستحق زکوٰۃ ہے اور سید بھی نہیں ہے تو سائل کا زکوٰۃ کی مد سے تعاون کرنا جائز اور درست ہے ورنہ نفلی صدقات سے مدد کرنا چاہیئے ۔
(2) اسلامی مہینوں کے اعتبار سے جب سائل صاحب نصاب بنا ہے، اس سے سال شمار کیا جائے گا، جبکہ ہر ہر مال پر علیحدہ سال گزرنا لازم نہیں بعد میں شامل ہونے والے مال کو سابقہ نصاب میں شامل کر کے اسپر زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے، (3) غلام لونڈی رکھنا آج بھی جائز ہے مگر ان کا وجود اس زمانے میں نہیں اور بین الاقوامی معاہدے کی وجہ سے اس پر قانونی پابندی بھی عائد کی گئی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی فتح القدیر: (الزکاۃ واجبة علی الحر العاقل البالغ المسلم اذا ملک نصابا ملکا تاما وحال علیہ الحول الخ (2/112)۔
وفی تکملة فتح الملھم: فالحق الواضح الصریح أن الاسترقاق مباح فی الاسلام باحکامہ وحدودہ التی سبقت لم ینسخہ شئی فیہ الحکم التی أسلفناھا والقول بنسۃ مردود مخالف للاجماع لاحجة لہ فی الادلة الشرعیة وینبغی ان یتنبہ ھنا الی شیئ مھم، وھو ان اکثر اقوام العالم قد احدثت الیوم معاھدۃ فیما بینھما (الی قولہ) فلا باس باحداث مثل ھذا لعھد مادامت الاقوام الاخری موافقة علیہ غیر ناقضة لہ الخ (1/272)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
راضی سلیمان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 27257کی تصدیق کریں
0     9
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات