محترم جناب مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
ایک نو مسلم خاتون یہ معلوم کرنا چاہتی ہے کہ نماز میں پہلے رکوع اور پھر سجدہ کیوں کرے؟ تکبیر کے بعد ایک دم سجدہ میں کیوں چلی نہ جائے، ان کا کہنا ہے کہ اگر معلوم ہو جائے کہ اس کی حکمت کیا ہے تو آدمی نماز کے اندر خشوع وخضوع اپنا سکتا ہے۔
واضح ہو کہ نماز کے تمام افعال وارکان شارع -علیہ الصلاۃ والسلام-کی طرف سے متعین ہیں، آپ علیہ السلام نے وحی الہٰی کے مطابق جن ارکان کی جس طرح اور جس موقع وترتیب کے ساتھ بتایا ہے، ان کو اسی موقع پر ادا کرنا لازم اور ضروری ہے، لہٰذا مؤمن ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ بلا چوں وچرا اسی کے مطابق عمل کیا جائے اس میں علت وحکمت کی جستجو میں رہنا مناسب نہیں۔
اگرچہ فی نفسہٖ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم میں ہزاروں حکمتیں ہیں، اسی طرح سجدہ سے قبل رکوع کرنے میں بھی بےشمار حکمتیں پوشیدہ ہیں جو غور کرنے سے سمجھ میں آ سکتی ہیں، جبکہ اس کی مزید وضاحت کے لیے احکام اسلام عقل کی نظر میں ’’مؤلفہ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ ‘‘ کا مطالعہ مفید رہےگا۔واللہ أعلم بالصواب!