مفتی صاحب! میرے کمرے میں دیوار پر خانہ کعبہ اور مسجدِ نبوی اور جبلِ اُحد کی تصاویر لگی ہوئی ہیں ،جو کہ قبلہ والی دیوار پر لگی ہوئی ہیں،لیکن ان پر لوگوں کی بھی تصاویر موجود ہیں ، لیکن لوگوں کی تصاویر بہت چھوٹی چھوٹی ہیں، جن میں آنکھ کان اور چہرہ صحیح نظر نہیں آتا ہے، تو اس کمرے میں ان تصاویر کے سامنے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟ اور کیا یہ تصاویر عذاب والی تصاویر کے زمرے میں تو نہیں آتیں ؟
خانہ کعبہ اور مسجدِ نبوی کی تصویر کے ہمراہ جو لوگوں کی تصاویر بنی ہوئی ہیں، اگر وہ مبہم غیر واضح ہوں جس میں لوگوں کی شکلیں واضح نظر نہ آتی ہوں، جیسا کہ عام مروج نقشوں میں ہے، تو یہ تصاویرِ محرمہ میں داخل نہیں، لہذا جس کمرے میں یہ لگی ہوں اس میں نماز پڑھنا جائز اور درست ہے، اگرچہ بہتر یہ ہے کہ اس کو جانبِ قبلہ سے ہٹا دیا جائے ۔
كما في الفتاوى الهندية : و لو كانت صغيرة بحيث لا تبدو للناظر إلا بتأمل لا يكره اھ (1/ 107)۔
في حاشية ابن عابدين : و لو كانت الصورة صغيرة كالتي على الدرهم أو كانت في اليد أو مستترة أو مهانة مع أن الصلاة بذلك لا تحرم ، بل و لا تكره اھ (1/ 647)۔