نماز کے دوران سجدہ کی حالت میں دونوں پاؤں کو ملا کر رکھنا چاہیے ( یا ایڑی ملی ہونی چاہیئں) یاپھر دونوں پاؤں کے درمیان فاصلہ ہونا چاہیے؟ ہمارے فقہ حنفی کےمطابق کون سا طریقہ سنت ہے؟ کیا اس مسئلہ میں ائمہ اربعہ میں اختلاف ہے؟ برائے مہربانی اگر حدیث کا حوالہ دیں تو اس کا اردو ترجمہ بھی تحریر فرما دیں ؟
سوال میں مذکور دونوں طریقے ثابت ہیں ان میں سے جو بھی طریقہ اختیار کیا جائے جائز اور درست ہے ۔
ففي العرف الشذى عن عائشة رضي الله عنها الرص بين العقبين في السجدة أي ضمها واكثر الناس عن هذا غافلون ( باب ما جاء فى التسبيح في الركوع والسجود (ص:۱۳۵)
وفی صحيح ابن حبان: عروة بن الزبير يقول: قالت عائشة فقدت رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان معي على فراشي فوجدته ساجدا راصا عقبيه مستقبلا بأطراف أصابعه للقبلة اھ (5/ 260)
وفي السنن الكبرى للبيهقي: عن البراء قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم " إذا ركع بسط ظهره، وإذا سجد وجه أصابعه قبل القبلة فتفلج" (2/ 162)