ایک مسئلہ کے بارے میں دریافت کرناہے کہ آیا جس طرح ساڑھے سات تولہ سونا اور ساڑھے باون تولے چاندی پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے تو اگر ایک آدمی کے پاس نصاب کے چاندی کی قیمت ہے مثلاً آج کل ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت ۶۰۰۰ ہے لہٰذا اگر ایک آدمی کے پاس ۶۰۰۰ روپے ہو اور اس پر سال گزر جائے تو اس پر زکوٰۃ اور اضحیہ واجب ہوگی یا نہیں؟
جی ہاں! اگر کسی کے پاس قرض اور حاجات اصلیہ سے فارغ سونا یا چاندی کے نصاب کی بقدر نقد رقم موجود ہو تو اس پر قربانی اور صدقہ فطر واجب ہے اور اگر اس رقم پر سال بھی گزر جائے تو پھر زکوٰۃ بھی لازم ہوگی۔
فی الفقه الاسلامی: وبحث فقهاء العصر حکم زکوٰة هذه النقد والورقیة فقررو وجوب الزکاة فیها عند جمهور الفقهاء (الحنفیة والمالکیة والشافعیة)
وایضا ولا تجب الزکاة علی الاوراق النقدیة الا ببلوغها النصاب الشرعی. (۲/ ۷۷۳) واللہ اعلم!
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0