حضرت مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہر وقت مجھے مذی آ رہی ہے اور میں ناپاک ہوں ،اور لگتا ہے جیسے اس وجہ سے میری کوئی عبادت قبول نہیں ہے ، اب یہ مسئلہ اتنا پُرانا ہوگیا ہے کہ میں ذہنی مریض بن گیا ہوں ، برائے مہربانی راہ نمائی فرمادیں ، ایک اور بات یہ کہ اگر مجھے شک ہو کہ میرے کپڑوں پر مذی لگی ہے ، لیکن اس کی مقدار اتنی کم ہو کہ مجھے نظر بھی نہیں آرہی ، تو کیا استنجاء اور وضوء کرکے میں نماز پڑھ سکتا ہوں ؟ برائے مہربانی راہ نمائی فرمائیں۔
سائل کے بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ وسوسے کا مریض ہے ، پس یہ بات اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو تو اسے چاہیۓ کہ وہ بکثرت تیسرے کلمہ کا ورد کرے ، پھر اگر وہ واقعۃً کبھی کپڑے پر مذی وغیرہ نجاست کے اثرات دیکھے ، تو یہ ناقضِ وضو شمار ہوں گے ، لہٰذا بلاوجہ پریشان ہونے کے بجائے متعلقہ مقام کو دھو کر وضو کرلیا کرے ۔
فی رد المحتار : (قوله : و لو شك إلخ) في التتارخانية : من شك في إنائه أو في ثوبه أو بدنہ أصابته نجاسة أو لا فهو طاهر ما لم يستيقن ، و كذا الآبار و الحياض و الجباب الموضوعة في الطرقات و يستقي منها الصغار و الكبار و المسلمون و الكفار ؛ و كذا ما يتخذه أهل الشرك أو الجهلة من المسلمين كالسمن و الخبز و الأطعمة و الثياب اهـ ملخصا اھ (1/ 151)۔