السلام علیکم!
میری بیوی ناراض ہو کے والدین کے گھر گئی ہے، مجھے کوئی ایسا وظیفہ بتادیں کہ جس سے اس کادل میری طرف مائل ہو اور وہ بری عادتوں کو بھی چھوڑ دے اور اچھی زندگی گزارے۔
اولاً تو سائل پرلازم ہے کہ بیوی کے حقوقِ واجبہ ادا کرنے کی فکر کر لے،اگر اس میں کوتاہی کی بنا پر وہ گئی ہو تو اس کو یقین دہانی کرا کر واپس لانے کی کوشش کرے اور ثانیاً رجوع الی اللہ اور گناہوں سے بچنے کا اہتمام کرے اور اللہ تعالیٰ سے حالات کی درستگی کیلئے دعا کرے اور اس کے ساتھ ساتھ بعدِ نمازِ عشاء چودہ(۱۴) تسبیح”یَاوَدُوْدُ“ پڑھا کریں، ان شاء اللہ مفید ہوگا۔
کما في الدر المختار: هي لغة: ما ينفقه الإنسان على عياله. وشرعا: (هي الطعام والكسوة والسكنى) وعرفا هي: الطعام (ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة: زوجية، (إلی قوله)(فتجب للزوجة) بنكاح صحيح، فلو بان فساده أو بطلانه رجع بما أخذته من النفقة بحر (على زوجها)؛ لأنها جزاء الاحتباس، وكل محبوس لمنفعة غيره يلزمه نفقته ۔ اھ(3/ 571)