السلام علیکم!
میرا یہ معمول ہے کہ میں فرض نماز کے بعد سر پر ہاتھ رکھ آیۃ الکرسی پڑھتا ہوں، لیکن کبھی میں نے یہ معلوم کرنے کی کوشش نہیں کی کہ کیا میں صحیح کر رہا ہوں؟ آج ایک صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ نے اس کے بارے میں تحقیق کی ہے، مجھے بہت شرمندگی ہوئی۔ یہی سوال میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا میں غلط کر رہا ہوں؟
فرض نماز نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھنا مسنون ہے، اور احادیث میں اس کے بڑے فضائل وارد ہوئے ہیں، چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھے وہ اگلی نماز تک اللہ تعالیٰ کے ذمہ میں ہوتا ہے، اس طرح ایک حدیث میں وارد ہے کہ جو شخص فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھے اس کے جنت میں داخل ہونے سے سوائے موت کے کوئی چیز مانع نہیں، مگر اس کا سر پر ہاتھ رکھ کر پڑھنا مسنون نہیں اگرچہ ایسا کرنا فی نفسہٖ جائز ہے۔
ففی الترغيب والترهيب: عن الحسن بن علي رضي الله عنهما قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "من قرأ آية الكرسي في دبر الصلاة المكتوبة؛ كان في ذمة الله إلى الصلاة الأخرى"(1/ 490)
وفی مشكاة المصابيح: وعن علي رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم على أعواد المنبر يقول: «من قرأ آية الكرسي في دبر كل صلاة لم يمنعه من دخول الجنة إلا الموت ومن قرأها حين يأخذ مضجعه آمنه الله على داره ودار جاره وأهل دويرات حوله» . رواه البيهقي اھ (1/ 308)واللہ اعلم