السلام علیکم!نیاز کیا ہے ؟ اور نیاز دلوانی چاہیےیا نہیں،برائے مہربانی اس بارے میں معلومات فراہم کر دیں،نوازش ہوگی۔
نیاز تو دراصل منت اور نذر کو کہا جاتا ہے ۔ اور یہ عبادات میں سے ہے،اورآجکل نیاز کے نام سے جو کھانے ہوتے ہیں وہ محض ایصال ثواب کیلئے ہوتے ہیں۔ چاہے نذر مانی ہو یا نہ ہو۔ اسلیئے اس کے کرنے میں حرج نہیں ۔ الا یہ کہ اس سے مقصود غیراللہ کا تقرب اور خوشنودی ہو۔ جیسے گیارھویں اور محرم کے کھانوں وغیرہ میں بعض جاہلوں کا یہ تصور ہوتا ہے۔ تو ایسے کھانے کا اہتمام اور اس کا کھانا ہر دوا مور جائز نہیں،بلکہ اس سےاحتراز لازم ہے ۔
کما فی البحر الرائق شرح كنز الدقائق: وأما النذر الذي ينذره أكثر العوام على ما هو مشاهد كأن يكون لإنسان غائب أو مريض، أو له حاجة ضرورية فيأتي بعض الصلحاء فيجعل سترة على رأسه فيقول يا سيدي فلان إن رد غائبي، أو عوفي مريضي أو قضيت حاجتي فلك من الذهب كذا، أو من الفضة كذا، أو من الطعام كذا، أو من الماء كذا، أو من الشمع كذا، أو من الزيت كذا فهذا النذر باطل بالإجماع لوجوه منها أنه نذر مخلوق والنذر للمخلوق لا يجوز؛ لأنه عبادة والعبادة لا تكون للمخلوق ومنها أن المنذور له ميت والميت لا يملك(2/ 320)