(۱) میں دبئی میں ایک کمرے میں رہتا ہوں میرے ساتھ اور دوست بھی ہیں وہ ۱۲ ربیع الاول اور گیارھویں شریف کا کھانا بنواتے ہیں اور ہمیں یہ کہتے ہیں کہ صرف اللہ کے نام کی نیاز ہے اور اس کا ایصال ثواب غوث پاک کو جائے، میں یہ نہیں کھاتا تو وہ ناراض ہوتے ہیں کہ غیراللہ کی نیاز نہیں اللہ تعالیٰ کے واسطے کا کھانا ہے کیا میں کھا سکتا ہوں؟
(۲) آج کل کچھ لوگ یہ پوسٹ بھیج رہے ہیں جس کا لنک یہ ہے
www۔falaah.co.uk/refutation/wahabi/139-tafsir-bulgatul-hairan
اس میں مارک کیا ہوا ہے۔ اور 158 پیج پر لکھا ہوا ہےنعوذ باللہ نعوذ باللہ کہ ’’اللہ کو پہلے سے کوئی علم نہیں ہوتا‘‘ اس کے کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے نعوذ باللہ اس کی تفصیل سے وضاحت کریں؟
بارہ ربیع الاول اور گیارھویں کا کھانا کھانا جائز ہے بشرطیکہ اللہ تعالیٰ کے نام پر دیا جاتا ہو اور ایصالِ ثواب غوث پاک کو کیا جاتا ہو مگر اس کھانے کی نسبت غلط ہوتی ہے اس لیے اس سے احتراز بہتر ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کے علم کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کفر ہے۔ اس لیے جو شخص اس نظریے کا حامل ہو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے اور اس طرح کے پوسٹ بھیجنے سے سب مسلمانوں کو اجتناب کرنا لازم ہے۔
کما فی الدر المختار: واعلم أن النذر الذی یقع للأموات من أکثر العوام وما یؤخذ من الدراہم والشمع والزیت ونحوہا الٰی ضرائح الأولیاء الکرام تقربًا إلیہم فہو بالاجماع باطل وحرام الخ. (۲/ ۴۳۹)
وفی شرح فقہ الاکبر: وانہ تعالٰی یعلم الجہر والسر وما یکون اخفٰی من المغیبات بل احاط بکل شیء علما من الجزئیات والکلیات والموجودات والمعدومات والممکنات والمستحیلات فہو بکل شیء علیم من الذوات والصفات بعلم قدیم لم یزل موصوفا بہ علٰی وجہ الکمال لا بعلم حادث حاصل فی ذاتہ بالقبول والانفعال والتغیر والانتقال (ص ۱۶)
وفیہ ایضًا: وکما قال ایضًا ﴿ولو ردوا لعادوا لما نہوا عنہ﴾ وان کان یعلم انہم لا یردون ولکن اخبر انہم لو ردوا لعادوا الیہ وفی ذلک رد علی الرافضۃ والقدریۃ الذین قالوا، انہ لا یعلم الشیء قبل ان یخلقہ ویوجدہ (ص۱۷) واللہ اعلم