میں ایک بینک میں نوکری کرتا ہوں ، اپنی ملازمت سے بالکل مطمئن نہیں ہوں ، میں بینک چھوڑ کر کوئی اور نوکری کرنا چاہتا ہوں، مگر کوئی اور نوکری نہیں مل رہی ہے اور میں چھوڑ کر بیٹھ بھی نہیں سکتا ، مجھے نوکری کرتے ہوئے دس سال ہو گئے، مگر آمدنی میں استحکام نہیں ہے ، میں نے اس سلسلہ میں ملک سے باہر کی بھی کوشش کی، مگر کام نہیں بنتا ، میرے دیگر معاملات زندگی میں بھی رکاوٹیں آتی ہیں ، میری عمر ۲۸ سال ہے ،مگر شادی کی کوئی صورت نظر میں بھی نہیں آتی ، میں اس سلسلہ میں بہت پریشانی کا شکار رہتا ہوں ۔ مجھے کوئی وظیفہ بھی بتا دے ۔ شکریہ !
سائل کے لیے کسی سودی بینک کی ایسی ملازمت جو براہ راست سودی لین دین سے متعلق ہو، اختیار کرنا اور اس کو برقرار رکھنا جائز نہیں۔ لیکن جب تک کوئی دوسرا حلال اور جائز روگار نہ ملے اس وقت تک مذکور بینک کی ملازمت کو بھی نہ چھوڑے اور حلال روزگار کو بھی اس طرح تلاش کرے جس طرح کوئی بے روز گار شخص تلاش کرتا ہے۔ اور بہتر ہے کہ کسی غیرمسلم سے پیشگی قرض لیکر اپنے گھر کے اخراجات چلائے اور مذکور تنخواہ اس کو دیدیا کرے۔ جبکہ بجائے باہر کسی دوسرے ملک جانے کے کسی اسلامی بنک میں ملازمت کی کوشش کرے تو یہ بھی جاز اور درست ہے ۔ جبکہ شادی کے لیے کسی طریقہ سے اپنے والدین کو بتلا دینا مناسب معلوم ہوتا ہے تاکہ وہ اپنے تجربہ سے سائل کے لیے بہتر رشتہ تلاش کر لیں ۔ جبکہ روزانہ ’’ {رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا } [الفرقان: 74] ‘‘ ایک سو ایک مرتبہ پڑھنا بھی اپنے مراد میں کامیاب ہونے کے لیے مجرب ہے۔
کما في تكملة فتح الملهم: ان التوظف في البنوك الربوية لا يجوز، فان كان عمل المؤظف في البنك ما يعين على الربا كالكتابة أو الحساب فذلك حرام لوجهين الأول اعانة على المعاصية والثانى اخذ الأجرة من المال الحرام اھ (۱/619)