السلام علیکم! مجھے راہ نمائی درکار ہے، مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں:
میں ہمیشہ سے پریشان رہی ہوں کہ کیا لڑکیاں عوامی مقامات میں نماز پڑھ سکتی ہیں؟ جیسے کہ میں ایئر پورٹ پر ہوں ، اور میں نہیں جانتی کہ میں لوگوں کے سامنے نماز پڑھوں یا نہیں؟ میرا بھائی اپنی نماز پڑھتا ہے ، تو کیا لڑکیاں بھی نمازیں پڑھ سکتی ہیں ، شاپنگ سینٹرز میں اور ایئرپورٹ میں جہاں پر کوئی مخصوص کمرہ نہیں ہوتا نماز پڑھنے کے لیے۔ (خصوصاً غیر ممالک میں)
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ میری عمر ۲۵ سال ہے اور میرے نکاح کے پیغامات آ رہے ہیں، لیکن دو سالوں سے لوگ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں،لیکن کوئی اُمید نظر نہیں آتی اور اب میں ہر حال میں شادی کرنا چاہتی ہوں، کیا کوئی مستند وظیفہ دعاءِ شادی کے لیے ہے، میں ہر روز سورۃ یٰسین پڑھتی ہوں اور شادی کے لیے دعا کرتی ہوں، جب میں اپنے والدین کو دیکھتی ہوں ، تو بہت نااُمیدی محسوس کرتی ہوں۔
عموماً ایسے مقامات پر مرد اور خواتین کی نماز کے لیے علیحدہ علیحدہ جگہ کا انتظام ہوتا ہے اور خواتین کو اسی جگہ نماز کا اہتمام چاہیئے۔
اور اگر ایسی صورت نہ ہو اور واپس گھر پہنچنے تک نماز کا وقت نکل جانے کا اندیشہ ہو ،تو پھر وہیں پر کسی دیوار وغیرہ کی اوٹ میں جہاں کم سے کم مردوں کی آمدورفت ہو ، وہاں نماز پڑھ لیا کریں اور اس دوران پردے کا بھی پورا اہتمام ہو۔
جبکہ شادی کےلیے اس وظیفہ کا اہتمام کریں کہ سورۂ الاحزاب پارہ ۲۱ کو مکمل طور پر ہرن کی جھلی یا کاغذ پر لکھ کر ایک ڈبیہ میں بند کر کے اپنے پاس یا گھر میں رکھ دیں ، اور یا سورۂ انبیاء کی آیت نمبر ۸۷ اور ۸۹ کا بکثرت ورد اور سورۂ طہٰ کی آیت نمبر ۱۳۲، اور ۱۳۲ کو لکھ کر اپنے اپنے پاس رکھے، اور ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور دعا بھی کرتی رہیں تو ان شاء اللہ بہت جلد رشتہ کے سلسلہ میں معاونت ہوگی کہ یہ ایک مفید اور انتہائی مجرب عمل ہے۔ (ماخوذ ار اعمال قرآنی، ص: ۱۳۰) واللہ أعلم بالصواب!
ففی مشكاة المصابيح: وعن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «صلاة المرأة في بيتها أفضل من صلاتها في حجرتها وصلاتها في مخدعها أفضل من صلاتها في بيتها» . رواه أبو داود اھ (1/ 334)
وفی الدر المختار: (وللحرة) ولو خنثى (جميع بدنها) حتى شعرها النازل في الأصح (خلا الوجه والكفين) فظهر الكف عورة على المذهب (والقدمين) اھ (1/ 405)