ہمارا آفس اسلام آباد میں ہے، اور گھر راولپنڈی میں جو تقریباً ۱۸ کلومیٹر بنتا ہے ، آفیشل بس میں چھٹی کے وقت کچھ لوگ چلتی بس میں ہی نماز پڑھتے ہیں تا کہ مغرب کی نماز قضاء نہ ہو ، اس کے کیا حکم ہے؟
چلتی بس میں فرض نماز پڑھنا درست نہیں ، ان لوگوں کو چاہیۓ کہ بس کو رکوا کر اور نیچے اتر کر یا بس پر سوار ہونے سے قبل نماز پڑھنے کا اہتمام کریں اور جتنی فرض نمازیں بس میں چلتے چلتے پڑھی ہیں، ان سب کی قضاء کریں، البتہ نفل نماز ایسی حالت پر بھی جائز ہے۔
فی الفقه الإسلامي و أدلته : صلاة الفرض و الواجب على الدابة : و لا يصح على الدابة صلاة الفرائض و الواجبات ، كالوتر و المنذورة اھ (2/ 1070)۔