السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ عید میلاد النبی کی دلیل میں بریلوی کہتے ہیں مولانا امداد اللہ مہاجر مکی نے عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم منائی ہے، انہوں نے برکت سمجھ کر منائی تھیاس کا کیا جواب ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر خیر صرف جائز ہی نہیں، بلکہ بہت بڑی سعادت کی باتہے،بشرطیکہ شریعت کی حدودمیں رہتے ہوئے کیا جائے،تاہم اگر یہ ذکر خیر شریعت کی حدود سے تجاوز کر کے کیا جائے تو پھر یہ ذکرخیر نہیں،بلکہ ذکر شر اور بدعت بن جاتا ہے۔
جبکہ عید میلاد النبی منانے کا جو طریقہ اہل بدعت نے متعارف کروایا ہے،جس میں پٹاخے پھوڑے بجاتے ہیں۔ مساجد گھروں اور بازاروںمیں کنڈے کی بجلی سے چراغاں کیا جاتا ہے، شرک و بدعت پر مبنی نعت خوانی کی جاتی ہے۔ پھر اس میں ساز باجے کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے ، لاوڈاسپیکروں کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے،جو لوگ اس مخصوص سلسلہ میں شریک نہ ہو ،اس کے خلاف کفر و شرک کے فتوے لگانے کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف تقریریں اورہرزہ سنائی کی جاتی ہے، روڈ بلاک کر کے عام عوام کو بھی مشقت میں ڈالا جاتا ہے، املاک غیرکو نقصان پہنچایا جاتا ہے، بیت اللہ اور روضہ رسول کی شبیہیں تیار کر کے ان کے گرد با قاعدہ طواف کیا جاتا ہے، گویایہ سلسلہ شرک و بدعت اور غنڈہ گردی کی واضح مثال اور عکاسی کرتا ہے،اسکے علاوہ پھر جو جلوس نکالے جاتے ہیں الامان والحفیظ اس میں بھی روضہ رسول کی شبیہ ساتھ ہوتی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر خیر تو کجا وہ ایک غنڈہ گردی کا لشکر ہوتا ہے جودوسروں کی املاک کو نقصان پہنچانے کیلئے آتشگیر مادوں کے لیس ہوتا ہے۔چنانچہ اس طرح کی عید میلاد النبی کی مثال اُمت مسلمہ کے کسی طبقہ میں عام بازاری لوگوں سے بھی ثابت نہیں۔چہ جائیکہ کسی متقی و پرہیز گار، دیندار اور عالم دین سے اس کا صدور ہو۔ لہذا کسی بدعتی کایہ کہنا کہ اس طرح کی عید میلاد النبی حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ سے بھی ثابت ہے ، ان کی شان میں لب کشائی اور تہمت کے مترادف ہے۔جس سے احتراز واجب ہونے کے ساتھ ساتھ اس افتراء بازی پر توبہ واستغفار بھی ضروری ہے ۔جبکہ اس سلسلہ میں امداد الفتاوی جلد،5،ص :266 تاص : 277 کا مطالعہ بھی مفید رہے گا۔
جشن عید میلاد النبی ﷺ منانا نا جائز ہے تو صد سالہ جشنِ دیوبند منانا کیوں جائز ہے
یونیکوڈ عرس و میلاد 0