السلام علیکم! میں پاکستان سے 25 اگست کو اپنے شوہر کے پاس جدہ جا رہی ہوں۔ میرے ساتھ چھوٹا بچہ ہے اور میں اکیلی سفر کر رہی ہوں۔ میرے دو 23 کلو کے سامان کے بیگ بھی ہیں۔ میری مشکل یہ ہے کہ جہاز میں میقات پر احرام باندھ کر بچے اور سامان کے ساتھ احرام کی پابندیاں سنبھالنا میرے لیے بہت مشکل ہے۔میرا اصل سفر جدہ میں اپنے شوہر کے پاس رہنے کے لیے ہے۔ میں جدہ پہنچنے کے بعد، کچھ دن آرام اور سامان/ بچے کا انتظام (baby settle )کرنے کے بعد عمرہ کرنا چاہتی ہوں۔ عمرہ ان شاء اللہ ضرور کرنا ہے۔کیا میں پچیس ( 25) اگست کو بغیر احرام کے جدہ جا سکتی ہوں اور پھر چند دن بعد جدہ میں اپنی رہائش سے احرام باندھ کر عمرہ کے لیے مکہ جا سکتی ہوں؟ اگر ہاں، تو جدہ سے ہی احرام کافی ہوگا یا کسی میقات پر جانا ہوگا؟براہ کرم میرے اسی مخصوص معاملے کے مطابق فتویٰ عطا فرمائیں۔
صورت مسئولہ میں اگر سائلہ شوہر کے پاس جدہ شہر رہنے کے لیے جارہی ہو، جاتے وقت اس کی نیت عمرےکی نہ ہو ، بلکہ وہاں کچھ دنوں آرام کرنے کے بعد عمرہ کی ادائیگی کا ارادہ ہو، تو ایسی صورت میں اس پر میقات سے گزرنے کے لیے احرام باندھنا لازم نہیں ، بلکہ وہ جب جدہ پہنچ کر بعد میں عمرے کے لیے جائے گی تو اپنے گھر یا حدود حرم سے باہر کسی بھی جگہ سے احرام باندھ کر عمرے کی ادائیگی کرسکتی ہے۔( کذا فی الفتاوی آپ کے مسائل اور ان کا حل ج:5 ص:323-325)
کما فی الدر المختار: أما لو قصد موضعا من الحل كخليص وجدة حل له مجاوزته بلا إحرام فإذا حل به التحق بأهله فله دخول مكة بلا إحرام وهو الحيلة لمريد ذلك إلا لمأمور بالحج للمخالفة اھ ( کتاب الحج ج:2 ص:476 ناشر: حلبی)
وفیہ ایضا: (وحل لأهل داخلها) يعني لكل من وجد في داخل المواقيت (دخول مكة غير محرم) ما لم يرد نسكا للحرج كما لو جاوزها حطابو مكة فهذا (ميقاته الحل) الذي بين المواقيت والحرم اھ ( کتاب الحج ج:2 ص:478 ناشر: حلبی)