احقر آئند حج پر جانے کا ارادہ رکھتا ہے ،میرے کچھ جسمانی مسائل ہیں ان کے بارے میں آپ سے قرآن و سنت کی روشنی میں رائے کا طلبگار ہوں ، جزاک اللہ ! میرا ایک پاؤں حادثے کی وجہ سے ڈراپ ہو گیا تھا گو کہ اس کا علاج کروایا تھا لیکن اب بھییہ مکمل نارمل نہیں،بغیر ٹائٹ جوتا پہنے چلنا دشوار ہوتا ہے، نیز ہوائی چپل پہن کر بھی نہیں چل سکتا ، براہ کرم را ہنمائی فرمائیں کہ کیا میں حرمین شریفین میں چمڑے کي بنی مسمی طرز کی کوئی چیز پہن سکتا ہوں؟
سائل اپنے مذکور عذر کی وجہ سے دورانِ احرام ایسا جوتا پہن سکتا ہے جو پاؤں کی مضبوطی سے گرفت کرسکے، مگر اس میں پاؤں کی پشت پر ابھری ہوئی ہڈی کو چھپانے سے احتراز چاہیئے ۔
کما فی الدر المختار : (وعمامة) وقلنسوة (وخفين إلا أن لا يجد نعلين فيقطعهما أسفل من الكعبين) عند معقد الشراكفيجوز لبس السرموزة لا الجوربين اھ (2/490)۔
و فی الرد : قلت: وكذا القدمين مما فوق معقد الشراك لمنعه من لبس الجوربين كما يأتي إلا أن يكون مراده بالستر التغطية بما لا يكون لبسا فستر اليدين والرجلين بالقفازين أو الجوربين لبس اھ (2/488)۔