جناب مفتی صاحب ! میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ میں اگر میقات کی حد سے باہر رہتا ہوں ،جیسا کہ ریاض میں، تو اگر میں حج پر جانے سے سات دن پہلے جدہ (جو کہ میقات کی حد کے اندر ہے) جاکر رہتا ہوں تو کیا میں وہیں جدہ سے حج کے لیے احرام باندھ کر حج کر سکتا ہوں یا مجھے واپس میقات آکر احرام باندھنا ہو گا؟ اور جدہ سے احرام باندھنا چاہوں تو مجھے کتنے دن وہاں پر سکونت اختیارکرنی ہوگی؟
سائل کا اگر جدہ میں کوئی کام ہو اور اسکی وجہ سے وہ حج سے چند دن پہلے جدہ میں آجائے تو اب اس کا جدہ کی میقات سے احرام باندھنا جائز ہے ، اور اس کے لیے دوبارہ ر یاض یا اس کی میقات پر جانے کی ضرورت نہیں۔
کما فی الدر المختار : (وحرم تأخير الإحرام عنها) كلها (لمن) أي لآفاقي (قصد دخول مكة) يعني الحرم (ولو لحاجة) غير الحج أما لو قصد موضعا من الحل كخليص وجدة حل له مجاوزته بلا إحرام فإذا حل به التحق بأهله فله دخول مكة بلا إحرام وهو الحيلة لمريد ذلك إلا لمأمور بالحج للمخالفة اھ (2/476)۔