میرا مسئلہ یہ ہے کہ میری شادی کو 11 سال ہو گئے ہیں۔ میرے شوہر باہر لڑکوں میں انٹرسٹڈ ہیں، اور شروع کے دو سال تھوڑا بہت حقِ زوجیت ادا کرتے تھے، جو بمشکل 10 بار ہی ادا کیا ہوگا۔ اب 9 سال سے بالکل دیکھتے ہی نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ خرچ اور بیماری کا بھی خیال نہیں رکھتے، نہ ڈاکٹر کے پاس لے کر جاتے ہیں۔
اور جب میں بولوں کہ تم پر حق ہے، اللہ معاف نہیں کرے گا، تو کہتے ہیں کہ اللہ غفور ہے، معاف کر دے گا۔
میرا پوچھنا یہ ہے کہ میرے ساتھ یہ معاملہ ہے، تو کیا میرے شوہر کو اللہ معاف کر دے گا؟ کیونکہ میں اس لیے بھی صبر کرتی ہوں کہ آخرت میں اجر ہوگا۔
اور ایسے شوہر کے ساتھ رہنے کا کیا حکم ہے؟
پلیز قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا وعید ہے ایسے شوہر کے لیے؟
سائلہ کا بیان اگر واقعۃ درست اور مبنی پر حقیقت ہو اس میں کسی قسم غلط بیانی اور کمی بیشی سے کام نا لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائلہ کا خاوند واقعۃہم جنس پرستی میں مبتلا ہو اور سائلہ کے حقوق زوجیت سمیت دیگر حقوق ادا نا کرتا ہو تو اس کی وجہ سے سائلہ کا خاوند سخت گناہ میں مبتلا ہے،اور چونکہ اس گناہ کا تعلق حقوق العباد (بندوں کے حقوق) سے بھی ہے نا کہ خالص حقوق اللہ سے، اس لیے اسکی معافی بھی تب ہوسکتی ہے جب بندہ خود اسے معاف کرے، معافی کی امید پر گناہ کرنا بڑی جرٲت اور غضب خداوندی کو متوجہ کرنے کا باعث ہے، لہذا سائلہ کے شوہر کا سائلہ کے حقوق سے لا پرواہی اختیار کرکے یہ کہنا کہ اللہ معاف کردیگا درست طرز عمل نہیں ہے، اس پر لازم ہے کہ فی الفور اپنے اس عمل پر سچے دل سے توبہ و استغفار کرکے بیوی کے حقوق کی ادائیگی کی فکر کرکےمؤاخذہ اخروی سے سبکدوشی حاصل کریں۔ اور چونکہ بیوی کے حقوقِ زوجیت ادا کرنا شوہر کی ذمہ داری ہے،اور دیانۃً واخلاقاً علاج ومعالجہ کرانا بھی اسی کی ذمہ داری بنتی ہے، جس کے لئے خاندان کے بااثر افراد کو چاہیئے کہ وہ اسے بٹھا کر سمجھائیں اور صلح صفائی کی کوشش کریں،تاہم اگر باوجود کوشش کے اس رشتے کو باقی رکھنے کی کوئی صورت ممکن نہ ہوتو سائلہ کچھ مال(حق مہر وغیرہ) کے ذریعے طلاق یا خلع حاصل کرسکتی ہے۔
فی الفتاوی الھندیۃ: وأما الطيب فلا يجب عليه منه إلا ما يقطع به السهوكة لا غير ويجب عليه ما يقطع به الصنان، ولا يجب الدواء للمرض، ولا أجرة الطبيب، ولا الفصد، ولا الحجامة كذا في السراج الوهاج وعليه من الماء ما تغسل به ثيابها وبدنها من الوسخ كذا في الجوهرة النيرة وفي فتاوى أبي الليث - رحمه الله تعالى - ثمن ماء الاغتسال على الزوج، وكذا ماء وضوئها عليه غنية كانت أو فقيرة، وفي الصيرفية: وعليه فتوى مشايخ بلخ وفتوى الصدر الشهيد - رحمه الله تعالى - وهو اختيار قاضي خان كذا في التتارخانية في باب الغسل وأجرة القابلة عليها حين استأجرتها، ولو استأجرها الزوج، فعليه، وإن حضر بلا إجارة فلقائل أن يقول: على الزوج؛ لأنه مؤنة الوطء و یجوز أن يقال: عليها كأجرة الطبيب كذا في الوجيز للكردري الخ(ج1صـ549 الباب السابع عشر فی النفقات ط: ماجدیۃ)۔