کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ اگر میاں بیوی کے درمیان کسی بھی وجہ سے طلاق، خلع کے ذریعے جدائی ہوجائے،اور ان کے بچے بھی موجود ہوں،لڑکا بھی اور لڑکی بھی ہے، لڑکے کی عمر آٹھ سال ہے،اور لڑکی کی عمر نو سال ہے ،انکی کفالت وخضانت کا حق والدین میں سے کس کو حاصل ہوگا؟ جو بھی حکم شرعی ہو ،تحریر فرمائیں ۔
واضح ہو کہ میاں بیوی کے درمیان علیحدگی ہو جانے کے بعد بچے کی عمر سات سال اور بچى كى عمر نو سال مکمل ہونے تک اس کی پرورش کا حق اس کی والدہ کو حاصل ہوتا ہے، بشرطیکہ اس دوران وہ بچوں کے کسی غیر ذی رحم محرم سے نکاح نہ کرے، یا وہ اپنے حق سے دستبردار نہ ہو جائے، جبكہ والده کے اپنے حق سے دستبردار ہونےيا بچوں كے كسى غير ذي رحم محرم سے نكاح كرنے كى صورت ميں يہ حق نانى اور نانى نہ ہونے كى صورت ميں دادى كى طرف منتقل ہوجاتا ہے، پھر ترتيب وار خالاؤں،پھوپھيوں كو ملتا ہے ،اور اس دوران بچوں کی کفالت پر آنے والے تمام اخراجات کی ذمہ داری بچوں کے والد پر ان کی وسعت کے مطابق لازم ہوتی ہے، اور بچوں كا مذكور عمروں تك پہنچنے پر اگر والد انہيں اپنی تحویل میں لینا چاہے ،تو لے سكتا ہے، لہذا صورتِ مسؤلہ میں چونکہ بچوں کی عمریں اس حد تک پہنچ چکی ہیں،جس میں شریعت والد کو بچے اپنی زیر تحویل لینے کی اجازت دیتی ہے ،چنانچہ اس صورت حال میں طلاق یا خلع کے ذریعے علیحد کی کے نتیجے میں والد بچوں کو اپنی تحویل میں لینے کا حق محفوظ رکھتا ہے، تاہم میاں بیوی کو بچوں کی دیکھ بھال اور نگرانی کے مسئلے کو انائیت کی بھینٹ چڑھانے کے بجائے ان کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے باہمی افہام و تفہیم سے فیصلہ کر لیں، تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔
كما في الدر المختار: (تثبت للأم) النسبية (ولو) كتابية، أو مجوسية أو (بعد الفرقة) (إلا أن تكون مرتدة) فحتى تسلم لأنها تحبس (أو فاجرة) فجورا يضيع الولد به كزنا وغناء وسرقة ونياحة كما في البحر والنهر بحثا. (إلى قوله) (أو غير مأمونة) ذكره في المجتبى بأن تخرج كل وقت وتترك الولد ضائعا (إلى قوله) (أو متزوجة بغير محرم) الصغير (أو أبت أن تربيه مجانا) (كتاب الطلاق، باب الحضانة، ج: 3، ص: 555، 556، 557، ط: ايج ايم سعيد،)۔
وفيه أيضا: (ثم) أي بعد الأم بأن ماتت، أو لم تقبل أو أسقطت حقها أو تزوجت بأجنبي (أم الأم) وإن علت عند عدم أهلية القربى (ثم أم الأب وإن علت) بالشرط المذكور وأما أم أبي الأم فتؤخر عن أم الأب بل عن الخالة أيضا بحر ألخ (كتاب الطلاق، باب الحضانة، ج: 3، ص: 563، ط: ايج ايم سعيد)۔
وفي الدر المختار أيضا: (والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب. (إلى قوله) (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية.اهـ وفي رد المحتار: (قوله: حتى يستغني عن النساء) بأن يأكل ويشرب ويستنجي وحده، (إلى قوله) (قوله: أي تبلغ) وبلوغها إما بالحيض، أو الإنزال، أو السن ط. (كتاب الطلاق، باب الحضانة، ج: 3، ص: 566، ط: ايج ايم سعيد)۔
وفي الهندية أيضا: والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين وقال القدوري حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويستنجي وحده وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين والفتوى على الأول والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض وفي نوادر هشام عن محمد - رحمه الله تعالى - إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق وهذا صحيح هكذا في التبيين ألخ (الباب السادس عشر في الحضانة، ج: 1، ص: 542، ط: مكتبة ماجدية)۔