کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے والد صاحب مرحوم عبد اللطیف کا انتقال ہوگیا ہے، بوقتِ انتقال ان کے ورثاء میں چھ بیٹے اور پانچ بیٹیاں موجود ہیں ،نیز اس بات کی وضاحت کردیں کہ اگر والد صاحب نے کوئی چیز جائیداد وغیرہ باقاعدہ قبضہ کے ساتھ کسی بیٹے یا بیٹی کو دی ہو،یا صرف کسی کے نام کردی ہو،یا زبانی کسی کے لئے کچھ دینے کاکہا ہوتو اس کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے؟ جو بھی حکم شرعی ہو ،تحریر فرمائیں۔نوٹ: والدہ کا پہلے ہی انتقال ہوچکا تھا۔
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کے والد مرحوم نے اپنی زندگی میں اپنے کسی بیٹے یا بیٹی کو کوئی چیز، جائیداد یا کوئی اور مال ہبہ کرکے اس پر باقاعدہ مالکانہ قبضہ اور تصرف بھی دے دیا ہوتو شرعاً ہبہ مکمل ہوکروہ بیٹا یا بیٹی اس چیز کے مالک بن گئے ہیں، لہذا والد کے انتقال کے بعد وہ ہبہ کردہ چیز ترکہ میں شامل نہیں ہوگی، اور دیگر ورثاء کا اس میں بطورِ میراث حصہ داری کا دعویٰ کرنا بھی درست نہ ہوگا۔
البتہ اگر والد مرحوم نے کوئی چیز یا جائیدادفقط کسی کے نام کر دی ہو، اور باقاعدہ مالکانہ قبضے کے ساتھ حوالے نہ کی ہو، یا محض زبانی یہ کہہ دیا ہو کہ یہ فلاں کو دوں گا، یا فلاں کو دینا ہے،تواس طرح کرنے سے شرعاً ہبہ مکمل نہیں ہوا،بلکہ وہ چیز یا جائیداد بدستور والد مرحوم کی ملکیت میں رہنے کی وجہ سے ان کے انتقال کے بعد ترکہ میں شامل ہوگی ،اور تمام شرعی ورثاء کے درمیان اصولِ میراث کے مطابق تقسیم کی جائے گی۔
اس کے بعد واضح ہوکہ سائل کے والد مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجود ہ ورثاء کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگاکہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جوکچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد،سونا، چاندی،زیورات،نقد رقم اورہر قسم کاچھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ،اس میں سے سب سے پہلےمرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر اس کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداہوتو وہ ادا کریں،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی(1/3)حصےکی حد تک اس پر کریں،اس کے بعد جو کچھ بچ جائے،اس کے کل(17)حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کے ہر بیٹے کو دو دو(2) حصے ،اور ہر بیٹی کو ایک ایک(1) حصہ دیا جائے.
کما فی الھندیۃ: و منھا أن یکون الموھوب مقبوضاً حتی لا یثبت الملک للموھوب لہ قبل القبض الخ(کتاب الھبۃ، ج: 4، ص: 374، ط: ماجدیۃ )۔
و فیھا ایضاً: و لا یتم حکم الھبۃ الا مقبوضاً و یستوی فیہ الاجنبی و الولد إذا کان بالغاً ھکذا فی المحیط الخ ( کتاب الھبۃ، ج: 4، ص: 377، ط: ماجدیۃ )۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0