احکام وراثت

ترکہ کی تقسیم کے وقت ایک بھائی کا کاروبار کو ذاتی قرار دینے اور اس کے دعوے کا حکم

فتوی نمبر :
97463
| تاریخ :
2026-07-14
معاملات / ترکات / احکام وراثت

ترکہ کی تقسیم کے وقت ایک بھائی کا کاروبار کو ذاتی قرار دینے اور اس کے دعوے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ الله وبركاتہ، محترم مفتی صاحب!
ہم ذیل میں دستخط کننده مرحوم (غلام صمدانی و لدعبدالکریم ) کےتمام قانونی درنا،باہمی رضامندی سے یہ مشتركہ استفتاء آپ کی خدمت میں پیش کر ر ہے ہیں تا کہ قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کی روشنی میں ہمارے مرحوم والد کی وراثت اور اس سے متعلق ایک شرعی اختلاف کا فیصلہ فرمادیا جائے، تا کہ آئندہ ہمارے درمیان کسی قسم کا شرعی یا خاندانی اختلاف باقی نہ رہے ۔
مرحوم کی جائیداد : مرحوم کی ملکیت میں صرف ایک رہائشی مکان موجود تھا، جس کی تفصیل درج ذیل ہے: مکان نمبر : 759 = بلاک : G وارثیہ کالونی سیکٹر 2/1 11 ، اورنگی ٹاؤن، کراچی، رقبہ: 220 گز، موجوده اند از امالیت 1,20,00,000 روپے (ایک کروڑ بیس لاکھ روپے) مرحوم کی ملکیت میں مذکورہ مکان کے علاوہ کوئی دوسری منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد، کاروبار یا ایسا اثاثہ موجود نہیں تھا جو ان کے ترکہ میں شامل ہو۔۔
**ورثاء کی تفصیل: مرحوم کے انتقال کے وقت درج ذیل ورثاء موجود تھے: اہلیہ (والدہ)، چار بیٹے، تین بیٹیاں۔ بعد ازاں چار بیٹوں میں سے ایک بیٹے کا انتقال ہو گیا، جس کی بىوه اور اولادىں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں موجود ہىں۔
**ذاتی کاروبار سے متعلق وضاحت: اس مشترکہ استفتاء میں ایک اہم شرعی مسئلہ بھی شامل ہے۔ ورثاء میں سے ایک بیٹے کا موقف یہ ہے کہ والد محترم کا سابقہ شوز مٹیریل کی دکان / کاروبار ان کی زندگی میں ختم ہو چکا تھا، جس کے بعد اس نے اپنی ذاتی حیثیت میں چپل کا کاروبار قائم کیا۔ وہ حلفا اقرار کرتا ہے کہ اس کا موجودہ کاروبار، اس سے حاصل ہونے والے تمام اثاثے اور اس کی ذاتی ملکیت اس کی اپنی محنت، ذاتی کمائی، کاروباری جد و جہد اور ذاتی وسائل سے قائم ہوئی ہے اور یہ والد مرحوم کے ترکہ سرمایہ یا ملکیت کا حصہ نہیں، وہ مزید حلفا اقرار کرتا ہے کہ اس بیان کی تائید میں اس کے پاس تمام متعلقہ دستاویزی ثبوت، مالی ریکارڈ اور دیگر شواہد موجود ہیں، جو ضرورت پڑنے پر دار الافتاء یا کسی مجاز قانونی فورم کے سامنے پیش کیے جاسکتے ہیں۔
اس کا مزید موقف ہے کہ اس کے علم کے مطابق تمام بہن بھائی اس کاروبار کے قیام کے حالات سے واقف تھے، جبکہ صرف ایک بھائی، جناب غفران ، اس وقت یہ اعتراض کر رہے ہیں کہ مذکورہ کا روبار بھی والد مرحوم کے ترکہ میں شامل کیا جائے اور تمام ورثاء کو اس میں شریک قرار دیا جائے۔ شرعی فیصلہ دار الافتاء سے حاصل کیا جائے تا کہ حق واضح ہو جائے۔
**گزارش: براہِ کرم درجِ بالا امور پر شرعی رہنمائی مرحمت فرمائیں:
1. مذکورہ مکان کی شرعی تقسیم کس طرح ہوگی؟
2. والدہ، چاروں بیٹوں اور تین بیٹیوں کا شرعی حصہ کتنا ہوتا ہے؟
3. چونکہ ایک بیٹے کا انتقال والد محترم کے انتقال کے بعد ہوا ہے، اس کے حصے کی شرعی تقسیم اس کی بیوہ اور اولاد میں کس طرح ہوگی؟
4. اگر مکان کی موجودہ مالیت 1,20,00,000 روپے ہو تو ہر وارث کو کتنی رقم ملے گی؟
5. مذکورہ حقائق کی روشنی میں کیا مذکورہ ذاتی کاروبار والد مرحوم کے ترکہ میں شامل ہوگا یا نہیں؟
6. اگر مزید کسی ثبوت یا دستاویز کی ضرورت ہو تو براہِ کرم اس کی بھی نشاندہی فرما دی جائے۔
ہم تمام ورثاء دارالافتاء کے شرعی فیصلے کو قبول کرنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی نیت سے یہ استفتاء پیش کر رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ والسلام
**تمام قانونی ورثاء کی تصدیق: ہم ذیل میں دستخط کنندگان اس استفتاء کو پڑھ کر اپنی معلومات کے مطابق دارالافتاء کو شرعی حل کے لیے ارسال کرنے پر راضی اور رضامند ہیں۔
غفران كرىم كا بىان: ہم چار بھائی اور تین بہنیں، (میت كے چار بیٹے اور تین بیٹیاں) ہیں، چاروں بھائی اور تین بہنیں شادی شدہ ہیں۔ میرے بڑے بھائی اور ابو کا انتقال ہو چکا ہے، اور والدہ (میت كى بیوہ) حیات ہیں۔ 2002 میں میرے والد صاحب نے دكان كھولى (چپل كے مٹىرىل كى)، اور اپنی معاونت کے لیے چھوٹے بھائی کو ساتھ رکھا، تقریباً چار سال کے بعد والد کی حیات میں ہى دکان کے ساتھ ہی کارخانہ شروع کر دیا۔ کارخانہ بہت اچھا چلنے لگا، اور اس کے نفع سے مزید کارخانہ خریدا، اور گاڑی بھی خریدی۔ اور اچھا منافع ہونے لگا۔ اس کے بعد کارخانے میں دونوں بھائیوں کو بھی رکھ لیا۔ 2020 میں میرے والد صاحب کا انتقال ہو گیا۔ اب کارخانے میں تین بھائی کام کرنے لگے، اور منافعے تین بھائی لیتے رہے۔ پھر 2024 میں میرے بڑے بھائی کا انتقال ہو گیا۔ اب اس میں حصے کا کیا طریقہ کار ہوگا؟ کارخانہ ابھی چل رہا ہے، اور اس کی آمدنی بھی ہو رہی ہے، اور اس کا ماہانہ منافع دونوں بھائی اور بڑے بھائی کی بیوہ اور بچوں کو مل رہا ہے۔
نوٹ: اس میں ذاتی جائداد کے متعلق دونوں بھائیوں كو دار الافتاء بلاىا گىا، غفران بھائی نے اپنے موقف لكھ کر دیا ہے، لیکن اپنے دعوا پر کوئی گواہ پیش نہیں کر سکا، اس كے ساتھ جو گواه لاىا تھا انہوں نے اس دعوا پر گواه دىنے سے انكار كردىا، جبکہ جتنے بھی گواہ تھے، سفیان کے تائىد میں تھے، اور سفىان اپنے كاروبار شروع كرنے كى حالت بتائى كہ پہلے والد صاحب كا چپل كا كاروبار تھا پھر بارش كى وجہ سے ىہ كاروبار ختم ہوگىا تھا اس كے بعد اس نے اىك دوست سے پىسہ ادھار لىكر دوباره كاروبار شروع كىا، اور سفیان نے بھی اپنی حلفیہ بیان دیا کہ میں مسمى سفیان اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ حلفیہ بیان دے رہا ہوں کہ میں جو کچھ کہوں گا، سچ کہوں گا، اگر میں نے بیان میں جھوٹ اور دروغ گوئى سے کام لیا تو اس کا عذاب اور وبال مجھے پر ہوگا۔ میرا حلفیہ بیان یہ ہے کہ یہ کارخانہ میرى ذاتى ملكىت ہے، والد صاحب کا تركہ نہیں ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں ورثاء میں سے ایک بیٹے مسمى "غفران" کا دعوی ہے کہ مذکور چپل کا کارخانہ و کاروبار والد مرحوم کی ملکیت ہے، جو ان کا تركہ میں شمار ہو کر تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کرنا چاہیئے ، لیکن دوسرا بیٹا مسمى "سفیان" اس دعوی سے انکاری ہے اور اس کا بیان ہے کہ موجودہ کاروبار اس کی ذاتی ملکیت ہے، جو والد مرحوم کے کاروبار کے ختم ہو جانے کے بعد اس نے ذاتی سرمایہ اور محنت سے شروع کیا، اس لیے یہ کاروبار والد مرحوم كا تركہ نہىں، چنانچہ مذکور صورتحال میں مدعی ہونے کی حیثیت سے مسمی "غفران" پر اپنے دعوی کا ثبوت گواہان کے ذریعہ لازم تھا، مگر وہ گواہان کے ذریعہ اپنے دعوی کو ثابت کرنے میں ناکام رہا ،جس کے بعد مسمی "سفیان" اپنے بیان پر حلف لینا لازم تھا، اور چونکہ وہ اپنے اس بیان پر حلف لے چکا ہے، اور دیگر قرائن و گواہان کے بیانات سے بھی "سفیان" کی بات کی تائید ہو رہی ہے، اس لىے شرعاً بھی ىہ کاروبار مسمی "سفیان" کی ذاتی ملکیت شمار ہوگی، اور اس میں کسی وارث کے لیے حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل نہ ہوگا، لہذا مدعی مسمی "غفران" کو اپنے دعوی پر اصرار سے احتراز لازم ہے، البتہ اس کاروبار کے علاوہ مرحوم کے انتقال كے وقت اس كى ذاتى ملكىت مىں جو كچھ موجود تھا وه اس كا تركہ كہلائىگا جو تمام ورثاء میں اصول میراث کے مطابق تقسیم ہوگا، جس کی تفصیل ذیل میں آرہی ہے۔
اس كے بعد واضح ہو كہ سائل کے والد مرحوم کا ترکہ اس کے موجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، زیورات، نقد رقم، اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائےاس كے كل چار ہزار دو سو چوبیس (4224) حصے بنائے جائے، جس ميں سےبىوه كو چھ سو چالیس (640) حصے، ہر اىك بیٹے كو چھ سو بہتر (672) حصے، ہر اىك بیٹى كو تین سو چھتیس (336) حصے، بہو (ىعنى مرحوم احسان كرىمكى بىوى) كو چوراسی (84) حصے، اور پوتا (ىعنى مرحوم احسان كرىم كے بىٹے) كو دو سو اڑتیس (238) حصے اور پوتىوں (ىعنى مرحوم احسان كرىم كى ہر اىك بىٹىوں مىں سے) ہر ايك كو ایک سو انیس (119) حصے دیے جائیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (كذا إذا ادعى دينا أو عينا على وارث إذا علم القاضي كونه ميراثا أو أقر به المدعي أو برهن الخصم عليه) فيحلف على العلم اهـ
وفي رد المحتار تحت قوله: (كونه ميراثا) أي كون المورث مات وتركه، (قوله: أو برهن الخصم) وهو المدعى عليه. (قوله: فيحلف) أي الوارث. (قوله: على العلم) أي: وإلا بأن لم يعلم القاضي حقيقة الحال ولا إقرار المدعي بذلك ولا أقام المدعى عليه بينة، يحلف على البتات: بالله ما عليك تسليم هذه إلى المدعي. (قوله: كموهوب) يعني: لو وهب رجل لرجل عبدا فقبضه، أو اشترى رجل من رجل عبدا، فجاء رجل وزعم أن العبد عبده، ولا بينة له، فأراد استحلاف المدعى عليه، يحلف على البتات اهـ (كتاب الدعوى، سبب الدعوى، ج:5 ص:553 ط: سعيد)
وفي بدائع الصنائع: وأما حجة المدعي والمدعى عليه فالبينة حجة المدعي واليمين حجة المدعى عليه لقوله عليه الصلاة والسلام «البينة على المدعي واليمين على المدعى عليه» جعل عليه الصلاة والسلام البينة حجة المدعي واليمين حجة المدعى عليه والمعقول كذلك لأن المدعي يدعي أمرا خفيا فيحتاج إلى إظهاره وللبينة قوة الإظهار لأنها كلام من ليس بخصم فجعلت حجة المدعي واليمين اهـ [كتاب الدعوى، فصل في حجة المدعي والمدعى عليه، ج:6 ص:225 ط: دار الكتب العلمية)]

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یعقوب علی معظم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 97463کی تصدیق کریں
1     32
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات