السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک بیوہ عورت جس کی ایک نرینہ اولاد اور چار بیٹیاں تھیں، خاوند نے ترکہ میں ایک عدد مکان چھوڑا تھا ، مرنے سے پہلے اس عورت نے اس مکان کی تقسیم کے بجائے اپنی تمام بیٹیوں سے ان کے حصے منت سماجت سے اپنے بیٹے کے نام کرا لیے تھے، جب کہ اس وقت تمام بیٹیاں عاقلہ بالغہ تھیں، اب جب کہ اس بات کو 40 سال تقریبا ہو چکے ہیں ، نیز بھائی کے اپنی بہنوں کے ساتھ تعلقات غیر مناسب ہیں ، کیا اب یہ بہنیں اس مکان میں حصہ لے سکتی ہیں ؟
تنقیح:بہنوں نے حصہ معاف کیسے کیا تھا،والدہ نے کیا مطالبہ رکھا تھا اور اس وقت کیا طریقہ کار اختیار کیا تھا؟کیا بہنوں کو کوئی رقم بطور عوض دی گئی تھی یا نہیں؟اس کی وضاحت کریں تو اس پر غور کے بعد جواب دیا جائےگا۔
جواب تنقیح:والدہ نے منت سماجت کی تھی کہ اکلوتا تمہارا بھائی ہے تم اپنے اپنے سسرال چلی جاؤ گی لہذا اپنے باپ کا گھر تم اپنے بھائی کے نام کر دو اس طرح بغیر کسی لین دین کے کاغذات پر دستخط کروا لیے۔
واضح ہوکہ مرحوم کے انتقال کے ساتھ ہی اس کا ترکہ تمام شرعی ورثاء کی مشترکہ ملکیت بن جاتا ہے، چنانچہ جب تک ترکہ مرحوم کے ورثاء میں شرعی طور پر تقسیم نہ ہو اور ہر وارث اپنے متعین حصہ پر قابض نہ ہوجائے، اس وقت تک کسی وارث کا اپنے غیر متعین حصہ سے بلاعوض دستبردار ہونا شرعاً معتبر نہیں ہوتا، لہٰذاصورت مسئولہ میں اگر مذکور مکان کی شرعی تقسیم سے پہلے ہی والدہ کی منت سماجت پر بہنوں سے بغیر کسی عوض کے دستبرداری کے کاغذات پر دستخط لیے گئے ہوں ، تو اس دستبرداری سے ان کا حقِ وراثت شرعاً ساقط نہیں ہوا، لہٰذا اس مکان کو پہلے مرحوم کے تمام شرعی ورثاء کے درمیان شرعی حصص کے مطابق تقسیم کیا جائے گا، پھر ہر وارث اپنے قبضہ میں آنے والے متعین حصہ کو اگر اپنی خوشی سے کسی دوسرے کے حق میں ہبہ کرے یا اس سے دستبردار ہو، تو وہ شرعاً معتبر ہوگا۔ لہذا مرحوم کی بیٹیاں اس دستبرداری کے باوجوداپنے شرعی حصہ کی حق دار ہیں اور اپنے حصہ کا مطالبہ کرسکتی ہیں۔
فی الفتاویٰ الخیریة: سئل فی رجل مات عن أم وأولاد وزوجة وترك میراثا فقبل قسمته أشهدت الأم علی أنها إنما لا تستحق قبلهم حقا ولا إرثا وابرأت ذمتهم ولم تتمرض لا سقاط ما تستحقه من الترکة فهل هذا الإبراء یشتمل ما تستحق من الترکة قبل قسمتهما (أجاب) صرح علماءنا بان الإرث لا یصح اسقاطه (إلی قوله) ولو قال وارث ترکت حقی لم یبطل حقه لأن لملك لا یبطل اھ(2/99)۔
وفی شرح الأشباه والنظائر: لو قال الوارث:تركت حقي لم يبطل حقه إذ الملك لا يبطل بالترك(3/52)۔
وفي الهداية في شرح بداية المبتدي: ومن وهب شقصا مشاعا فالهبة فاسدة" لما ذكرنا "فإن قسمه وسلمه جاز"؛ لأن تمامه بالقبض وعنده لا شيوع. (3/ 223)
وفى البحر الرائق: ويشترط في صحة هبة المشاع الذي لا يحتملها أن يكون قدرا معلوما حتى لو وهب نصيبه من عبد ولم يعلمه به لم يجز لأنها جهالة توجب المنازعة اھ (7/ 286)
وفی الدر المختار: (و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح اھ (5/688)۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0