مفتی صاحب السلام علیکم! میں محمد رفیق خان ولد عبد الغفار (مرحوم ) جائیداد کے سلسلے میں آپ کی رہنمائی چاہتےہیں، مہربانی فرما کر ہماری رہنمائی فرمائیں، میں 2022 میں آپ سے جائیداد کے تقسیم کے بارے میں فتوی لیا تھا، پھر میں نے اپنی بہنوں سے کیا کہ اپنا حصہ لے لیں، تو میری بہنوں نے کیا ابھی ہمیں نہیں چاہیے، جب ہمیں ضرورت ہوگی، تو ہم آپ سے حصہ لے لیں گے، تو ان سے میں نے کہا کہ میں پکا RCCگھر بنانا رہاہوں، تو انہوں نے کہا ٹھیک ہےآپ بنائے، تو میں گھر بنایا جس پر میرے 65لاکھ روپے خرچہ آیاجو میں نے گھر بنایا، ان کے حصوں کے لئے میں نے 85 لاکھ روپے میں فروخت کردیا، ابھی میں ان کو حصے دے رہا ہوں 25 لاکھ کے حساب سے، جو آپ نے فتوے میں لکھے تھے، پانچ بہنیں اوار ایک بھائی کے حساب سے، لیکن وہ کہہ رہی ہیں کہ ہمیں 85 لاکھ روپے میں حصہ دیں، ابھی وہ پانچوں بہنیں مجھ سے پورے گھر میں حصہ مانگ رہی ہیں، میرے پاس کوئی نقد رقم نہیں تھی، اس لئے میں نے گھر فروخت کردیا، لہذا آپ میری رہنمائی فرمائیں، کیونکہ 65 لاکھ روپے میں نے لگائیں ہیں، مہربانی فرما کر ہمارا فتوی جاری کریں۔
(نوٹ): 2022 میں فتوی لیا تھا، لیکن اس وقت تقسیم نہ ہو سکا، بلکہ بہنوں نے کہا کہ جب ہمیں ضرورت ہوگی، لے لیں گے، تو میں نے ان کی اجازت سے اس پلاٹ کے کچے مکان پر خرچہ کر کے پکامکان بنادیا، اب وہ لوگ حصہ مانگ رہے ہیں، تو ان کا حصہ صرف پلاٹ کی قیمت 2022 کے حساب سے بنے گایا ابھی کی قیمت سے، اور تقسیم سے پہلے میں اپنی خرچہ کردہ رقم منہا کروں گا، اس میں ان کا حصہ بنتا ہے؟ جو بھی شرعی حکم ہو، تحریر فرمائیں۔
صورت مسئولہ میں سائل نے تمام ورثاء کی اجازت و رضامندی سے یہ پکی تعمیر خود کے لئے کی ہو، تو شرعاََ یہ تعمیر سائل کی ملکیت شمار ہوگی، لہذا اس تعمیر کے عوض جو رقم فروختگی کے نتیجہ میں ملی ہے، وہ سائل کی ملکیت ہوگی، اس میں بہنوں کا حصہ داری کا مطالبہ کرنا جائز نہیں، بلکہ انہیں اپنے اس ناجائز مطالبہ پر اصرار کرنے سے احتراز لازم ہے، البتہ جو رقم ترکہ میں چھوڑی گئی زمین اور کچے مکان کے عوض میں آئی ہے، وہ سائل سمیت تمام ورثاء میں حسب حصص شرعیہ تقسیم ہوگی، جس کی تقسیم کا طریقہ پرانے فتوی میں موجود ہے۔
کما فی الدر المختار: (عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها) لصحة أمرها (ولو) عمر (لنفسه بلا إذنها العمارة له) ويكون غاصبا للعرصة فيؤمر بالتفريغ بطلبها ذلك (ولها بلا إذنها فالعمارة لها وهو متطوع) في البناء اھ (کتاب الخنثی، ج: ٦، ص: ٧٤٧ ،ط: سعید)
وفي رد المحتار: قوله ( عمر دار زوجته الخ ) على هذا التفصيل عمارة كرمها وسائر أملاكها جامع الفصولين . وفيه عن العدة كل من بنى في دار غيره بأمره فالبناء لآمره ولو لنفسه بلا أمره فهو له وله رفعه إلا أن يضر بالبناء فيمنع ولو بنى لرب الأرض بلا أمره ينبغي أن يكون مبترعا كما مر إ ه (الی قولہ) قوله( والنفقة دين عليها ) لأنه غير متطوع في الإنفاق فيرجع عليها لصحة أمرها فصار كالمأمور بقضاء الدين ، زيلعي ، وظاهره وإن لم يشترط الرجوع، وفي المسألة اختلاف وتمامه في حاشية الرملي على جامع الفصولين قوله ( فالعمارة له ) هذا لو الآلة كلها له فلو بعضها له وبعضها لها فهي بينهما ط عن المقدسي قوله (بلا إذنها ) فلو بإذنها تكون عارية ط.(کتاب الخنثی، ج: ٦، ص: ٧٤٧ ،ط: سعید)
وفی تنقیح الفتاوی الحامدیة: (سئل)رجل بنی بمالہ لنفسہ قصرا فی دار ابیہ باذنہ ثم مات ابوہ عنه وعن ورثته غیره فھل یکون القصر لبانیه ویکون کالمستعیر (الجواب)نعم کما صرح بذالک فی حاشیة الاشباه(الی قولہ) ویکون کالمستعیر فیکلف قلعه متی شاءاھ (کتاب العاریة،ج: ٢،ص:٨٨،ط:حقانیۃ)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0