جناب مفتی صاحب !
میرا سوال یہ ہے کہ میرے والد کچھ عرصہ سے بیمار تھے، 2 ماہ قبل میرے والد صاحب نے ایک شخص سے تیس ہزار (30,000) روپے بطورِقرض لیے ،اور یہ کہا کہ میرے بچوں کو نہ بتانا، یہ بات ہمیں کسی اور ذریعے سے معلوم ہوئی، تو ہم نے دورانِ علالت اُن سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا ہاں میں نے لیا ہے، اور میری ایک کمیٹی پچاس ہزار (50,000) کی ہے ،جو کسی بھی ماہ کھل سکتی ہے، اس میں سے میرا قرض اتار دینا۔ اب جب کہ ہمارے والد صاحب 15 روز قبل انتقال فرما گئے ہیں، اور رقم دینے والا اپنی رقم کا تقاضہ کر رہا ہے،ایسی صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہیئے ، قرض کی رقم مرحوم کی وصیت کے مطابق دیں یا اپنے پاس سے ادا کریں ۔ جلد جواب دیں ۔ جزاکم اللہ خیرا !
سائل کے والد مرحوم کے ترکہ میں اگر اس کمیٹی ( مبلغ پچاس ہزار روپے) کے علاوہ نقدی وغیرہ نہ ہو ،اور قرض دینے والا بھی مزید مہلت دینے کیلئے آمادہ نہ ہو ،اور کوئی بیٹا وغیرہ بھی اپنے والد کا قرض اتارنے کی ہمت نہ رکھتا ہو تو چاہئیے کہ بطورِ قرض رقم جمع کر کے مذکور دائن کو اس کا دین مبلغ تیس ہزار روپے دیدیا جائے اور کمیٹی کھلنے پر یہ قرض واپس لوٹا دیا جائے ،اور اگر مرحوم کے ترکہ میں یا اس کے ورثاء کو مالی اعتبار سے وسعت ہو تو پھر کمیٹی کھلنے تک ادائیگی قرض میں تاخیر کرنا درست نہیں۔ بلکہ فوراً اس کی ادائیگی کرنا لازم ہے ۔
کمافي الدر المختار: (يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق حق الغير بعينها كالرهن والعبد الجاني) (إلى قوله) (بتجهيزه) يعم التكفين (من غير تقتير ولا تبذير) (إلى قوله) (ثم) تقدم (ديونه التي لها مطالب من جهة العباد) اھ (6/ 759)-
و فيه ايضا: لكن لو حج عنه ابنه ليرجع في التركة جاز إن لم يقل من مالي، وكذا لو أحج لا ليرجع كالدين إذا قضاه من مال نفسه اھ(2/ 606) -
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2