مفتی صاحب! قرآن و سنت کے مطابق ہماری رہنمائی فرمائیں ، ہمارے والد کے نام پر ایک لیز مکان ہے، جس میں دو بھائی اور دو بہنیں وارث ہیں، جس کا کل رقبہ 177 گز ہے ،ہمارے والد صاحب نے اپنی بہن کے بیٹے جو کہ اپنی امی سے یتیم تھے ،ان کی کفالت کی، انہیں پڑھایا ،انہیں لکھایا اور اپنی بڑی بیٹی سے شادی کروا کر گھر کےاندر (زبانی) مشترکہ حصہ دار بنایا بہن کے ساتھ. اب ہمارا کھانا پینا ، رہن سہن سا تھ تھا، اب ہماری بڑی بہن کہتی ہے کہ حصہ میرے شوہر کو دیا ہے، میرا حصہ آپ لوگوں کے ساتھ ہے ، اب کل رقبہ 177 گز ہے،جس میں 60 گز مشترکہ طور پر انہیں دیا گیا ہے، اب بہن اور ان کا بیٹا کہتا ہے کہ جتنے کی بھی جگہ بکتی ہے، اس میں ہمارے ٪ 50 فیصد ہے، کیونکہ ہماری جگہ کارنر کی ہے، جبکہ کل رقبہ 177 گز ہے، جس میں 60 گز ان کے پاس ہے اور جو باقی ماندہ دو بھائی اور ایک بہن کی جگہ ہے اس میں بھی حصہ مانگ رہے ہیں، رہنمائی فرمائیں ۔ ایک زمین گاؤں میں 13 مرلہ جو کہ ہمارے والد صاحب نے چھوڑی ہے اور ماں کی طرف سے ان کے بھائی نے تقریباً تین چار پانچ (3،4،5)مرلہ، لیکن ابھی کنفرم نہیں، ان کا کیا حساب ہوگا۔
(نوٹ) : والد صاحب نے جب بیٹی ممتاز کی شادی اپنے لے پالک بیٹے ظہور سے کرا دی ،تو اپنے گھر میں سے 60 گز کے حصے میں صحن کے آدھا تک دیوار لگا کر ان کو کہا کہ یہ تم دونوں کی جگہ ہے اس میں رہو، یا فروخت کرو، وہ اس میں رہنے لگے اور ابھی تک ان کے قبضے میں ہے، اب بیٹی ممتاز اس 60 گز کے علاوہ باقی جائیداد میں بھی حصہ کا مطالبہ کر رہی ہے ،تو کیا ان کا یہ مطالبہ شرعاً درست ہے اور وہ باقی جائیداد میں حصہ دار ہیں ،یانہیں؟
صورت مسئولہ میں اگر سائل کے والد مرحوم نےاپنی زندگی میں مکان کے 60 گز کا حصہ بیٹی اور داماد کومشترکہ طورپر یہ کہہ کر دیا ہوکہ" یہ تم دونوں کی جگہ ہے اس میں رہو، یا فروخت کرو" لیکن دونوں کے درمیان باقاعدہ تقسیم کرکے ہر ایک کے حصہ پر قبضہ نہ دیا ہوتویہ ہبہ شرعاً تام نہیں ہوا،بلکہ مذکور 60 گز بھی مرحوم والد کی ملکیت شمارہو کراب تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوں گے، چنانچہ بیٹی مذکور جائیداد سمیت اپنے والد مرحوم کے تمام ترکہ میں اپنے شرعی حصہ کا مطالبہ کرسکتی ہے.
کما فی الدر المختار: (و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول)،الخ (كتاب الهبة، ج: 5، ص: 688، مط: سعید)
وفی الفتاویٰ الھندیۃ: هبة المشاع فيما يحتمل القسمة من رجلين أو من جماعة صحيحة عندهما وفاسدة عند الإمام، وليست بباطلة حتى تفيد الملك بالقبض، كذا في جواهر الأخلاطي. ذكر الصدر الشهيد إذا وهب من رجلين ما يحتمل القسمة حتى فسدت الهبة عنده ثم قبضها يثبت الملك ملكا فاسدا، قال وبه يفتى، كذا في الفتاوى العتابية.(الباب الثاني فيما يجوز من الهبة وما لا يجوز، ج: 4، ص: 378، مط: ماجدیۃ)
وفی بدائع الصنائع: لأن الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال «عليه الصلاة والسلام من ترك مالا أو حقا فهو لورثته» الخ (فصل في بيان صفات الحدود، ج: 7، ص: 57، مط: سعید کراچی)
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0