کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ ہمارے والد(سکندر خان) نے دو شادیاں کیں، پہلی شادی سے ایک ہی بیٹا محمد ایوب تھا، والد صاحب کی پہلی بیوی فوت ہوگئی ، تواس کے بعد والد صاحب نے دوسری شادی کی، ہماری والدہ(اختربی بی ) سے ہمارے والد صاحب کی زندگی میں ہی ہمارے سوتیلے بھائی کا انتقال ہوچکاتھا، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ ہمارے والد صاحب کی جائیداد میں محمد ایوب کی اولاد کا حصہ بنتاہے کہ نہیں ؟
واضح ہو کہ والد کی زندگی میں جس بیٹے یا بیٹی کا انتقال ہوجائے، تو اس کے توسط سے اس کی اولاد کامرحوم کی میراث میں شرعاًحصہ نہیں بنتا ، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مسمٰی محمد ایوب کاانتقال چونکہ والدمرحوم کی زندگی میں ہوگیاتھا، لہٰذا اس کی اولادکامرحوم دادا کے ترکہ میں شرعاً کوئی حصہ نہیں بنتا، البتہ اگر مرحوم کے ورثاء اپنی مرضی سے مرحوم بھائی کی اولاد کے ساتھ صلہ رحمی کے طور پر انہیں بھی کچھ دینا چاہیں، تو اس کا انہیں اختیار حاصل ہے، تاہم ایسا کرنا شرعاً ان پر لازم و ضروری نہیں ۔
کما فی صحیح البخاری : عن ابن عباس رضي اللّٰه عنهما قال: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم: ألحقوا الفرائض بأهلها فما بقي فهو لأولی رجل ذکر (باب میراث الولد من ابیہ وامہ، ج: 4، ص: 2959، رقم: 2732، م: بشرٰی)
و فی تکملة فتح الملهم : ولو کان مدار الإرث علی الیتم والفقر والحاجة لما ورث أحد من الأقرباء الأغنیاء، وذهب المیراث کله إلی الیتامیٰ والمساکین (الٰی قولہ) وأن معیار الإرث لیس هو القرابة المحضة ولا الیتم والمسکنة، وإنما هو الأقربیة إلی المیت اھ
و فیھا ایضاً : وقد ذکر الإمام أبوبکر جصاص الرازي رحمه اللّٰه في أحکام القرآن،2: 101 والعلامة العیني في عمدة القاري، 23: 238،الإجماع علی أن الحفید لایرث مع الابن اھ ۔( باب الحقوا الفرائض الخ، ج: 2، ص: 17، 18، م: دارالعلوم کراتشی)
وفی الشامیۃ : وموضوعه: التركات، وغايته: إيصال الحقوق لأربابها، وأركانه: ثلاثة وارث ومورث وموروث، وشروطه ثلاثة: موت مورث حقيقةً أو حكمًا كمفقود أو تقديرًا كجنين فيه غرة، ووجود وارثه عند موته حيًّا حقيقةً أو تقديرًا كالحمل، والعلم بجهل إرثه اھ (کتاب الفرائض، ج: 6، ص: 758، م: سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2