اب میرے والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے۔ ہم کل چار بہن بھائی ہیں: ایک بھائی اور تین بہنیں۔
والد صاحب نے اپنی زندگی ایک گھر مکمل قبضہ اور اختیار گھر کے تمام کاغذات، پوزیشن لیٹر اور دیگر متعلقہ دستاویزات ہماری والدہ کے نام منتقل کر دی تھیں۔ والدہ اس وقت اس گھر میں رہائش پذیر ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ جب تک وہ زندہ ہیں اور اس گھر میں رہ رہی ہیں، گھر فروخت نہ کیا جائے۔تاہم ہمارا بھائی اصرار کر رہا ہے کہ گھر فروخت کر دیا جائے، جبکہ والدہ اس پر راضی نہیں ہیں۔دریافت طلب امر یہ ہے کہ:
1. اگر یہ گھر والدہ کی ملکیت ہے اور تمام دستاویزات اور مکمل قبضہ بھی دیا گیاہو تو کیا والدہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق جب چاہیں گھر فروخت کریں یا نہ کریں؟
2. کیا ہمارا بھائی والدہ کو گھر فروخت کرنے پر مجبور کر سکتا ہے؟
3. اگر والدہ بعد میں اپنی مرضی سے گھر فروخت کریں تو کیا فروخت شدہ رقم میں بیوہ والدہ کے سابقہ شوہر کے دو بچوں کا کوئی شرعی حصہ ہوگا یا وہ مکمل طور پر والدہ کی ملکیت شمار ہوگی؟ شرعی رہنمائی فرمائی جائے۔
صورتِ مسئولہ میں اگر سائلہ کے والد مرحوم نے اپنی زندگی میں مذکورہ مکان اپنی اہلیہ (سائلہ کی والدہ) کو مکمل قبضہ اور تصرف کے اختیار کے ساتھ ہبہ کر دیاہو ، اور مکان کے تمام کاغذات و دستاویزات بھی ان کے نام منتقل کر دیئے ہوں اس طور پر کہ اسے اس مکان کو فروخت کرنے اور کرایہ پر دینے وغیرہ ہر قسم کے تصرف کا مکمل اختیار دیا گیا ہو ، تو شرعاً یہ ہبہ مکمل ہو چکا ہے۔ لہٰذا مذکورہ مکان سائلہ کی والدہ کی ملکیت شمار ہوگا اور انہیں اس میں مکمل تصرف کا حق حاصل ہوگا۔ اور سائلہ کے بھائی کو یہ حق حاصل نہ ہوگاکہ وہ اپنی والدہ کو مکان فروخت کرنے پر مجبور کرے ، بلکہ والدہ اپنی مرضی کے مطابق جب چاہیں مکان فروخت کریں یا نہ کریں، اس کا اختیار صرف انہی کو حاصل ہوگا۔
نیز اگر والدہ بعد میں اپنی رضامندی سے اس مکان کو فروخت کر دیتی ہیں تو فروخت شدہ مکان سے حاصل ہونے والی رقم بھی ان ہی کی ملکیت ہوگی۔ البتہ والدہ کے انتقال کے وقت ان کے ترکہ میں اس مکان سمیت جو مال موجود ہوگا، وہ تمام ورثاء میں حسب حصص شرعیہ تقسیم کرنا لازم ہوگا ، اور چونکہ سابقہ شوہر سے پیدا ہونے والے بچے بھی والدہ کی حقیقی اولاد ہیں، اس لیے وہ بھی والدہ کے انتقال کے بعد ان کے ترکہ میں اپنے شرعی حصے کے بقدر کے حق دار ہوں گے۔
کما فی البحر الرائق: لأن قبض كل شيء وتسليمه يكون بحسب ما يليق به الخ ( فصل في أحكام المساجد ج:5، ص:268، مط: دار الكتاب الإسلامي)۔
وفی مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر : وفي الخانية رجل وهب دارا وسلم، وفيها متاع الواهب لا تجوز؛ لأن الموهوب مشغول بما ليس بهبة فلا يصح التسليم، ولو وهبت امرأة دارها من زوجها وهي ساكنة فيها، وزوجها أيضا ساكن فيها جازت الهبة ويصير الزوج قابضا للدار؛ لأن المرأة ومتاعها في يد الزوج فصح التسليم.اھ( أركان الهبة ج:2، ص:453، مط: دار إحياء التراث العربي، بيروت)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0