السلام علیکم
میرا سوال یہ ہے کہ میرے والدین کا گھر ہے اور والدین کا انتقال ہو چکا ہے اس گھر میں ہم دو بھائی رہتے ہیں اب میرے چھوٹے بھائی کا انتقال ہو گیا ہے اس کی ایک بیوی اور ایک بیٹی ہے کیا بھائی کی بیٹی کا گھر میں حصہ بنتا ہے اور جب کہ گھر میرے نام ہے مہربانی کر کے فتویٰ دیجئے
صورتِ مسئولہ میں اگر مذکور گھر واقعۃً والدین کی ملکیت تھا ،تو ان کے انتقال کے بعد مذکور مکان ان کا ترکہ بن چکا تھا ، لہذا والدین کی وفات کے وقت موجود تمام ورثاء اس میں اپنے حصوں کے حق دار بن گئے تھے، چونکہ مرحوم بھائی اس وقت زندہ تھا، اس لیے اس کا حصہ بھی متعین ہو چکا تھا،لہذا اب اس کی وفات کے بعد اس کا حصہ اس کے ورثاء، یعنی بیوہ، بیٹی اور دیگر شرعی ورثاء میں تقسیم ہوگا۔ لہٰذامرحوم بھائی کی بیٹی اپنے والد کے حصہ میں شرعاً حق دار ہے ۔
جبکہ والدین نے اگر اپنی زندگی میں یہ گھر باقاعدہ طور پر سائل کو ہبہ کرکے اس پر قبضہ نہ دیا ہوتو محض گھر کا سائل کے نام ہونا ملکیت کے ثبوت کے لیے کافی نہیں، بلکہ وہ ترکہ ہی شمار ہوکر تمام ورثاء میں اپنے حصوں کے بقدر تقسیم ہوگا۔
وفی مشكاة المصابيح: عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبرا من الأرض ظلما فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»( باب الغصب والعارية:الفصل الاول،ج:١،ص:٢٥٤،ط:قديمى كتب خانه)
کما فی الشامیۃ: أن شرط الإرث وجود الوارث حيا عند موت المورث (ج6 ص769 کتاب الفرائض ط: ایچ ایم سعید )
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2