میری شادی ایک آدمی سے ہوئی تھی۔ شادی کے بعد میں ایک سال تک مشترکہ خاندانی نظام میں رہی۔ ایک سال کے بعد گھریلو لڑائی جھگڑے شروع ہوگئے، تو میرے شوہر کے والد نے انہیں اپنی وراثت میں حصہ دیتے ہوئے گولی مار کے علاقے میں واقع ایک گھر میں منتقل کردیا اور کہا کہ یہی گھر تمہارے حصے میں ہے، البتہ بلدیہ ٹاؤن والے گھر میں بھی تمہارا حصہ موجود ہے، تم صرف یہاں سے وہاں منتقل ہوجاؤ۔
میرے شوہر مسلسل بیمار رہتے تھے، جس کی وجہ سے گھر میں اکثر جھگڑا رہتا تھا۔ ان کے والد اور بھائیوں نے تنگ آکر یہ کہہ دیا کہ ہم تمہاری بیماری کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے۔ میرے شوہر نے اپنی زندگی میں کبھی کوئی ملازمت نہیں کی۔ میں نے ہی انہیں سنبھالا، گھر کے اخراجات برداشت کیے اور ان کے علاج و معالجہ کی ذمہ داری بھی اٹھائی۔
آخری دو تین سال ان کی بیماری بہت شدید ہوگئی، جس کے باعث علاج و معالجہ کے لیے بھاری قرض لینا پڑا۔ آس پڑوس سے تقریباً چار سے پانچ لاکھ روپے قرض لیے گئے، جبکہ دوست احباب سے بھی تقریباً تین سے چار لاکھ روپے بطور قرض حاصل کیے گئے۔ اب قرض خواہ اپنی رقوم کا مطالبہ کررہے ہیں۔
بلدیہ ٹاؤن والا گھر 640 گز پر مشتمل ہے، جہاں مرحوم کے تمام بھائی رہتے ہیں، جبکہ گولی مار والا گھر 29 گز پر مشتمل ہے، جس کے بارے میں مرحوم کے والد نے اپنی زندگی میں یہ کہا تھا کہ یہ اس بیٹے کے وراثتی حصے کے طور پر انہیں دیا جارہا ہے۔
اب میرے شوہر کا انتقال ہوچکا ہے۔ ان کی وفات کے بعد عدت کے دوران ہی ان کے بھائیوں نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں یہ گھر خالی کردوں، اور یہ کہا کہ وراثت میں میرا کوئی حصہ نہیں ہے، لہٰذا میں اس گھر پر کسی قسم کا حق نہیں رکھتی۔
ازروئے شرع دریافت طلب امر یہ ہے کہ:
1. میرےشوہر کو ان کے والد نے اپنی زندگی میں جو 29 گز کا گھر دیا تھا، کیا وہ شرعاً ان کی ملکیت شمار ہوگا؟
2. اگر وہ گھر مرحوم شوہر کی ملکیت تھا، تو کیا اس میں بیوہ کا شرعی حصہ ہوگا؟
3. بلدیہ ٹاؤن کے 640 گز کے گھر میں، جس کے بارے میں والد نے یہ کہا تھا کہ وہاں بھی میرے شوہر کا حصہ ہے، کیا مرحوم کی بیوہ کسی شرعی حصے کی حق دار ہے؟
4. عدت کے دوران بیوہ سے گھر خالی کرنے کا مطالبہ کرنا اور اسے گھر سے نکل جانے پر مجبور کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟
5. مرحوم کے ذمے علاج و معالجہ کی مد میں لیے گئے قرضوں کی ادائیگی کی شرعی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی، اور ان قرضوں کی ادائیگی وراثت کی تقسیم سے پہلے کی جائے گی یا بعد میں؟
براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ اسلامی کی روشنی میں اس مسئلے کا مدلل شرعی حکم بیان فرما دیں۔
نوٹ:مرحوم "لاولد"تھے ،اورمرحوم کے والدان کی زندگی میں کئی سال قبل انتقال کرچکےہیں۔
صورتِ مسئولہ میں اگر مرحوم کے والد نے اپنی زندگی میں 29 گز کا گولی مار والا گھر باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ اسےبطورِ ہبہ دیدیاہو، تو وہ گھر شرعاً مرحوم کی ملکیت شمار ہوگا، اور ان کی وفات کے بعد ان کے ترکہ میں شامل ہوگا۔ ایسی صورت میں مرحوم کے ترکہ میں سےتجہیز و تکفین کےمتوسط اخراجات اورمرحوم کے ذمہ واجب الادا ہرقسم کا قرض اداکرنے کے بعدجوکچھ بچ جائے وہ اس کی بیوہ سمیت تمام ورثاء میں حسب حصص شرعی تقسیم ہوگا ۔
البتہ بلدیہ ٹاؤن کے 640 گز والے گھر کے متعلق اگر مرحوم کے والد نے صرف یہ کہا تھا کہ "اس میں بھی مرحوم کا حصہ ہے"، لیکن اپنی زندگی میں اس حصے کو متعین کرکے اس کا قبضہ نہیں دیا تھا، تو محض اس قول سے مرحوم اس حصے کا مالک نہیں بنا؛ لہٰذا وہ جائیداد بدستور والد کی ملکیت شمار ہوگی، اور والد کے انتقال کےبعد ان کے تمام شرعی ورثاء کے درمیان تقسیم ہوگی، چونکہ مرحوم کا انتقال والدکے انتقال کے بعدہواہے،اس لیے وہ بھی ان کے ورثاء میں شامل ہوگااوراس کے انتقال کے بعداس کاحصہ دیگرترکہ کے ساتھ شامل کرکے اس کے ورثاء (بشمول بیوہ )میں ان کے حصہ شرعی کے مطابق تقسیم کیاجائے گا۔
جبکہ بیوہ کو عدت کے دوران اس رہائش گاہ سے، جہاں وہ اپنے شوہر کے انتقال کے وقت مقیم تھی، نکالنا اور گھر خالی کرنے پر مجبور کرنا شرعاً درست نہیں؛ بلکہ اسے عدت اسی گھر میں پوری کرنے کا حق حاصل ہے،مرحوم کے بھائیوں کایہ عمل شرعاًجائزنہیں ،جس سے بہرصورت اجتناب لازم ہے۔
کما فی بدائع الصنائع : و ینبغی للرجل ان یعدل بین اولادہ فی النحلی لقولہ سبحانہ و تعالٰی ان اللہ یامر بالعدل و الاحسان الخ ( کتاب الھبۃ، ج:6 ، ص : 127، ط : سعید )۔
وفی الشامیۃ : (قوله: هو الإيجاب) وفي خزانة الفتاوى: إذا دفع لابنه مالا فتصرف فيه الابن يكون للأب إلا إذا دلت دلالة التمليك بيري، قلت: فقد أفاد أن التلفظ بالإيجاب والقبول لا يشترط، بل تكفي القرائن الدالة على التمليك كمن دفع لفقير شيئا وقبضه، ولم يتلفظ واحد منهما بشيء اھ (کتاب الھبۃ، ج : 5، ص : 688، م : سعید)۔
و فی البحر الرائق : یکرہ تفضیل بعض الاولاد علی البعض فی الھبۃ حالۃ الصحۃ ( الی قولہ ) و فی الخلاصۃ المختار التسویۃ بین الذکر و الانثیٰ فی الھبۃ الخ (کتاب الھبۃ، ج:7، ص : 288، ط : ماجدیہ )۔
وفی الھندیۃ : ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض وأن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب ولا يكون متصلا ولا مشغولا بغير الموهوب حتى لو وهب أرضا فيها زرع للواهب دون الزرع، أو عكسه أو نخلا فيها ثمرة للواهب معلقة به دون الثمرة، أو عكسه لا تجوز، وكذا لو وهب دارا أو ظرفا فيها متاع للواهب، كذا في النهاية. ومنها أن يكون مملوكا فلا تجوز هبة المباحات؛ لأن تمليك ما ليس بمملوك محال. ومنها أن يكون مملوكا للواهب فلا تجوز هبة مال الغير بغير إذنه لاستحالة تمليك ما ليس بمملوك للواهب اھ (کتاب الھبۃ، الباب الاول، ج : 4، ص:374، م : ماجدیۃ)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2