السلام عليكم ورحمة الله وبركاتہ
محترم شیخ !
میرا نام اشرف عمر فاروق لاکھانی ہے، میرا تعلق مسلمان کچھی کھتری برادری سے ہے، مجھے ایک اہم مسئلہ کے بارے میں شرعی رہنمائی درکار ہے
ہماری مسلمان کچھی کھتری کمیونٹی میں اگر کوئی مرد دوسری برادری میں شادی کرتا ہے۔ تو اس کے بچوں کا نام بطور سزا جماعت کے ریکارڈ اور فیملی کارڈ میں درج نہیں کیا جاتا۔ جماعت میں ممبر شپ کے لیے یہ شرط رکھی گئی ہے کہ صرف اس بچہ کو برادری کا حصہ مانا جائے گا جس کے نانا، نانی، دادا، دادی سب ہی مسلمان کچھی کھتری برادری کے ممبر ہوں گے نیز اگر دادی، نانا، نانی میں سے کوئی ایک بھی کسی دوسری برادری سے ہوگا تو ایسے بچے کو برادری کی ممبر شپ نہیں دی جاتی۔ اس پابندی کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ: - اگر عورت سندھی، پٹھان، پنجابی، بلوچی وغیرہ ہوئی تو کچھی کھتری قوم کی خالصیت ختم ہو جائے گی۔ - دوسری برادریوں میں جہیز (لین دین) کا رواج زیادہ ہے۔ ۔ دوسری برادری کی عورت سے نکاح کرنے سے برادری کے رسم و رواج تبدیل ہو جائیں گے۔ بچوں کی شادیوں میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ مزید یہ کہ جماعت کے بعض افراد کا کہنا ہے کہ: جماعت ایک ادرے کی مانند ہے اور ہر ادارے کے کچھ شرائط و قواعد ہوتے ہیں۔ جیسے کسی ادارے میں نوکری کرنے جاتے ہیں تو وہاں کے قوانین پر لازمی عمل کرنا ہوتا ہے ویسے ہی جماعت کے بھی قوانین ہیں، اس کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں . یہ جماعت کا اجتماعی فیصلہ (قوانین) ہیں کہ کن ممبرز کے بچوں کا نام جماعت میں رجسٹرڈ کیا جائے یا نہ کیا جائے“
واضح رہے کہ جماعت کسی کو دوسری برادری میں شادی سے روکتی نہیں، لیکن یہ کہتی ہے کہ ایسی صورت میں بطور سزا اس شخص کے بچوں کا نام جماعت میں رجسٹرڈ نہیں کیا جائے گا نیز اس وجہ سے برادری میں عملی طور پر بھی بچوں کو برادری کا مکمل حصہ تسلیم نہیں کیا جاتا اور اکثریت ایسے بچوں کو کچھی زبان میں ڈنگری لسڑ (پیاس لہن) یعنی ان بچوں کی سماجی حیثیت پر طنز کیا جاتا ہے کہ یہ ہم میں سے نہیں اور نتیجتاً ان بچوں کو رشتوں اور دیگر جماعتی معاملات میں مشکلات پیش آتی ہیں یہاں تک کہ ان بچوں سے برادری کے ممبران رشتہ طے کرنے سے گریز کرتے ہیں کہ ان سے شادی کی بناء پر آئندہ انکے بچوں کو بھی جماعت کا حصہ تسلیم نہیں کیا جائے گا یعنی ایسے بچوں سے مکمل سوشل بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔
سوالات یہ ہیں:
1. کیا بطور مسلمان، برادری اپنی مرضی کی قانون سازی کر سکتی ہے اور ایسے قوانین سے ممبرز پر پابندی لگانا جائز ہے؟
2 کیا جماعت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ صرف دوسری برادری میں نکاح کی بنیاد پر بچوں کی ممبر شپ روک دے؟
3 : دوسری برادری میں نکاح کرنے پر ممبر کو سزا نہیں دی جاتی لیکن بطور سزا اسکے بچوں کے نام جماعت میں شامل نہیں کیا جاتا ، یہ اسلامی انصاف کے منافی نہیں کہ سزا مجرم (جماعت کی نظر میں مجرم) کی جگہ بچوں کو( ممبر شپ روک کر) دی جائے ؟
4 : کیا ایسی شرطیں اسلامی تعلیمات اور مساوات اسلام کے خلاف شمار ہوں گی؟
5 ممکن ہے کچھی کھتری جماعت کی کابینہ یا جماعت کے کسی ممبر نے پہلے آپ کے ادارے سے نامکمل تفصیلات بتا کر فتویٰ لیا ہو مگر برائے کرم میرے اس تفصیلی سوال کے مطابق فتوی دیں تاکہ مسلمان برادی کی شرعی رہنمائی ہوسکے۔ برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں تحریری رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ مسلم کچھی کھتری برادری کا مروجہ جہیز،اور غیر شرعی رسم ورواج وغیرہ کے خاتمہ کی غرض سے دوسری برادری میں نکاح کرنے کی حوصلہ شکنی کرنا اگر چہ بظاہر نیک نیتی پر مبنی اقدام ہو،تاہم پھر بھی ایسے قوانین بنانا جو مزاجِ شریعت کے موافق نہ ہوں،کسی طور مناسب نہیں۔چنانچہ مذکور برادری کے منتظمین کا برادری سے باہر نکاح کرنے والے حضرات کی اولاد کو برادری اور خاندان کا حصہ نہ سمجھنے،فیملی ریکارڈ میں ایسے بچوں کا اندراج نہ کرکے انہیں برادری کی مراعات اور تقویت سے محروم کرنے،یا انہیں طعن وتشنیع کا نشانہ بناکر انہیں کم تر سمجھنے،اور ان کے رشتوں میں رکاوٹیں ڈالنے سے احتراز کرنا چاہیئے،لہٰذا مذکور برادری کے منتظمین کے ذمّہ ایسے قوانین کو ختم کرنا،یا ان میں مناسب ترمیم اور تبدیلی کرکے انہیں شریعت کے مزاج سے ہم آہنگ بنانا لازم اور ضروری ہے،جبکہ برادری کا نظم وضبط برقرار رکھنے اور نکاح جیسی اہم عبادت کو غیر شرعی رسم ورواج سے پاک رکھنے کےلئے اہلِ علم کی مشاورت سے ترغیب وترہیب کے ساتھ شریعت کے مطابق ایسے اصول بنائے جاسکتے ہیں کہ جن سے مذکور نیک اور جائز اہداف کا حصول بھی ممکن ہو اور بچوں کی حق تلفی کی نوبت بھی پیش نہ آئے۔
جبکہ سوال کے ساتھ جو فتویٰ منسلک کیا گیاہے وہ جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ کے دار الافتاء کا نہیں،بلکہ جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کی طرف منسوب ہے۔
في القرآن الكريم:
﴿إِنَّمَا ٱلۡمُؤۡمِنُونَ إِخۡوَةٞ فَأَصۡلِحُواْ بَيۡنَ أَخَوَيۡكُمۡۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُونَ﴾ [الحجرات: 10]
«سنن الترمذي» :
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا خطب إليكم من ترضون دينه وخلقه فزوجوه، إلا تفعلوا تكن فتنة في الأرض، وفساد عريض»(3/ 386)
«صحيح البخاري»:
«ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (الولد للفراش، وللعاهر الحجر).» (6/ 2627)
«الهداية في شرح بداية المبتدي»:
«الكفاءة في النكاح معتبرة " قال عليه الصلاة والسلام " ألا لا يزوج النساء إلا الأولياء ولا يزوجن إلا من الأكفاء " ولأن انتظام المصالح بين المتكافئين عادة لأن الشريفة تأبى أن تكون مستفرشة للخسيس فلا بد من اعتبارها بخلاف جانبها لأن الزوج مستفرش فلا تغيظه دناءة الفراش "»(1/ 195)