اگر کوئی بجلی چوری کرے اور پنکھے کی لائٹ یا ایئر کنڈیشن آن کرنے سے پہلے بسم اللہ کہے تو کیا یہ کفر ہے؟ کیونکہ حرام سے پہلے بسم اللہ کہنا کفر ہے۔
واضح ہو کہ کسی حرام کام کے شروع میں بسم اللہ کو حلال سمجھ کر یا بطورِ استہزاء و تحقیر کے , پڑھنا کفریہ عمل ہے اور فقہاءِ کرام کی تصریحات کے مطابق ایسا شخص دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں بجلی چوری کرنا ایک الگ جرم اور گناہِ کبیرہ ہے ، لیکن اگر ائیرکنڈیشن وغیرہ آن کرتے وقت جان بوجھ کر بسم اللہ کو حلال سمجھتے ہوئے یا بطورِ استہزاء کے پڑھے تو شرعاً ناجائز و حرام اور گناہِ کبیرہ ہونے کے ساتھ وہ شخص دائرۂ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔
البتہ اگر مسئلہ سےلاعلمی کی وجہ سے ہر کام کے شروع میں بسم اللہ پڑھنے کو مسنون سمجھتے ہوئے , یہاں بھی بسم اللہ کہہ دے تو اس پر کفر کا حکم نہیں لگایا جائے گا، لیکن پھر بھی چوری کا گناہ بہرحال ہوگا، اس لئے بجلی چوری کرنے سے بہرصورت احتراز لازم ہے۔
کما فی الفتاوىٰ الهندية : من أكل طعاما حراما ، و قال عند الأكل بسم الله حكى الإمام المعروف بمشتملي أنه يكفر ، و لو قال عند الفراغ الحمد لله قال بعض المتأخرين لا يكفر۔ اھ (2/ 273)۔
و فیھا ایضاً : و الاتفاق علی انه ان امسک القدح و قال بسم الله و شربه یصیر کافرا و ھکذا ان بسمل وقت مباشرة الزنی أو حال لعب القمار عند إمساک الکعبین فإنه یصیر کافرا کذا فی الفصول العمادیة۔اھ (2/ 273)۔
و فیھا ایضاً : من إعتقد الحرام حلالا ، أو على القلب يكفر أما لو قال لحرام هذا حلال لترويج السلعة ، أو بحكم الجهل لا يكون كفرا۔اھ (2/ 272)۔
و فیھا ایضاً : إذا أطلق الرجل كلمة الكفر عمداً لكنه لم يعتقد الكفر قال بعض أصحابنا لا يكفر و قال بعضهم يكفر ، و هو الصحيح عندي كذا في البحر الرائق۔اھ(2/ 276)۔
و فی البحر الرائق : و في الخلاصة و غيرها إذا كان في المسألة وجوه توجب التكفير و وجه واحد يمنع التكفير فعلى المفتي أن يميل إلى الوجه الذي يمنع التكفير تحسينا للظن بالمسلم زاد في البزازية إلا إذا صرح بإرادة موجب الكفر فلا ينفعه التأويل حينئذ و في التتارخانية لا يكفر بالمحتمل لأن الكفر نهاية في العقوبة فيستدعي نهاية في الجناية و مع الاحتمال لا نهاية۔اهـ (5/ 134)۔