میرا گھر گرمیوں کی راتوں میں بہت گرم ہو تاہے ، جبکہ گھر میں ہوا کا داخلہ بالکل نہیں ہے ، اور اگر کھڑکی وغیرہ کھولیں تو ہماری اور سامنے والوں کی بے پردگی ہوتی ہے ، رات کو گرمی اور حبس کی وجہ سے مجھے نیند نہیں آتی ، جبکہ صبح ڈیوٹی پر بھی لازمی پہنچنا ہوتا ہے ، میری اتنی آمدنی نہیں ہے کہ میں ایئر کنڈیشنر کا بل برداشت کر سکوں، شرعی ضرورت کی بنیاد پر نیند کرنے کے لئے ہمارے گھر میں اے سی چلانا ضروری ہے، تو کیا ایسی صورت میں واپڈاوالوں سے بات کر کے اے سی کو براہ راست چلا سکتا ہوں یعنی میٹر کے بغیر چلا سکتا ہوں ؟ اور اگراے سی براہ راست نہیں چلا سکتا تو براہ مہربانی اس کا حل دیں ۔
سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ واپڈا والوں سے بات کرکے بغیر میٹر کے ڈائریکٹ بجلی استعمال کرنے اور اے سی چلانے کا کیا مطلب ہے ؟ تاکہ اسی کے مطابق جواب دیا جاتا ، تاہم اگر سائل کا منشا یہ ہو کہ واپڈا ملازمین کو کچھ رقم یکمشت یا ماہانہ بنیاد پر دیکر ان کے ذریعے اے سی چلانے کےلئے میٹر کے بجائے ڈائریکٹ غیر قانونی لائن لے لی جائے تو یہ عمل جونکہ چوری اور دھوکہ دہی کے زمرے میں آنے کی وجہ سے شرعاً نا جائز اور حرام ہے ،اس لیے اس سے اجتناب لازم ہے ، البتہ اگر سائل میٹر کے ذریعہ آنے والی بجلی سے اے سی چلانے اور اس کا بل برداشت کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہو تو اے سی کے بجائے کم وولٹیج والا کوئی کولر وغیرہ استعمال کرکے ضرورت پوری کرنے کی کوشش کرسکتاہے۔
کما في سنن الترمذي : عن أبي هريرة رضي اللہ عنہ قال : لعن رسول الله صلی اللہ علیه و سلم الراشي والمرتشي في الحكم ( باب ماجاء في الراشي والمرتشي في الحكم، ج ۱، ص248 ، ط: الميزان )-
و في الهداية : السرقة في اللغة : أخذ الشيئ من الغير على سبيل الخفية والاستسرار ومنه استراق السمع قال الله تعالى إلا من استرق السمع (كتاب السرقة، ج ۲، ص 524، ط: مكتبة رحمانية)-
و في الدر المختار: و حكمه الإثم لمن علم أنه مال الغير و رد العين قائمة و الغرم هالكة، (كتاب الغصب ، ج 6،س ص 179، ط:سعید )-