قوانین کی خلاف ورزی

مسجد میں نماز باجماعت کے متصل بعد لاؤڈ اسپیکر پر بیان وغیرہ کرنا

فتوی نمبر :
13929
| تاریخ :
0000-00-00
معاشرت زندگی / معاشرتی برائیاں / قوانین کی خلاف ورزی

مسجد میں نماز باجماعت کے متصل بعد لاؤڈ اسپیکر پر بیان وغیرہ کرنا

محترم و مکرم حضرت مفتی صاحب! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
عرض یہ ہے کہ بعض مسجدوں میں فرائض اور نفل کے درمیان کچھ مختصر پروگرام اور اعلانات ہوتے ہیں ، ذیل میں کچھ مروجہ شکلیں بیان کی جاتی ہیں:
۱۔ نماز کے بعد مختصر سنت اور آداب بیان ہوتے ہیں۔
۲۔ بعض جگہوں پر امام صاحب کھڑے ہو کر مصلیوں سے مخاطب ہو کر مختصر دو تین منٹ کی نصیحت کرتے ہیں۔
۳۔ بہت سی مسجدوں میں بیماروں کے لئے دعا کی درخواست کے، انتقال کے اور جنازے کی اوقات کے اعلانات ہوتے ہیں۔
۴۔ بعض مدرسوں میں بچوں کی ہمت افزائی کے لئے روزانہ ایک حفظ کلاس کا طالب علم کرسی پر بیٹھ کر ایک صفحہ کی تلاوت کرتا ہے تاکہ ہمت پیدا ہو۔
ان کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ وجۂ سوال یہ ہے کہ مشاہدہ ہے کہ جن لوگوں کی رکعت فوت ہوئی ہوتی ہے وہ اپنی فوت شدہ رکعتیں پڑھ رہے ہوتے ہیں، جب مسجد کی مائیکروفون سے یہ اعلانات، پروگرامات چلتے ہیں، نیز کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ لوگ اپنی نفلیں شروع کرتےہیں پھر امام صاحب اپنی بات شروع کرتے ہیں , اس کی وجہ سے ان کی نمازوں میں خلل کا احتمال ہے، گو مطلقاً نماز کے بعد مختصر مسئلہ بیان کرنا جائز کہا گیا ہے، لیکن اس عارض کی وجہ سے حکم میں کوئی فرق آئےگا ؟ امید ہے کہ جواب دے کر ممنون فرمائیں گے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اولاً تو سوال میں مذکور قسم کے پروگرام اور اعلانات نہ تو ہر مسجد میں ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی خاص مسجد و مدرسہ کا معمول دیکھنے میں آیا ہے ، اگر کسی مصلحت کے تحت چند دنوں کے لئے کسی مسجد و مدرسہ میں ایسا پروگرام رکھا بھی گیا ہو تو یہ ایک وقتی اور عارضی امر ہے جو موضوعِ بحث نہیں بن سکتا ۔
تاہم اگر کسی مسجد میں واقعۃً روزانہ اور ہر نماز کے بعد کا یہ معمول ہو تو انتظامیہ مسجد یا امامِ مسجد کو چاہیئے کہ وہ مسبوقین کی نماز کا خیال کرتے ہوئے چند منٹ کے لئے اپنا پروگرام مؤخر کر دیں تو اس میں بھی شرعاً کوئی حرج نہیں، نیز اہلِ محلہ نمازیوں کو بھی چاہئیے کہ اوقاتِ نماز کی پابندی کا خیال رکھیں اور وقت سے چند لمحات پہلے مسجد پہنچنے کی کوشش کریں تاکہ اہتمامِ نماز پر اجر و ثواب ملنے کے ساتھ ساتھ مسبوق بن کر نماز کی خرابی کے اندیشے سے بھی حفاظت ہو سکے، البتہ جو لوگ نماز ہو جانے کے بعد مسجد آئیں تو انہیں چاہیئے کہ وہ نمازیوں سے ہٹ کر مسجد کے برآمدے یا صحن وغیرہ میں نماز پڑھیں تاکہ وہ پرسکون طریقے نماز ادا کر سکیں اور مسجد کا پروگرام بھی جاری رہ سکے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی حاشية ابن عابدين : (قوله و رفع صوت بذكر إلخ) (إلی قوله) و في حاشية الحموي عن الإمام الشعراني : أجمع العلماء سلفا و خلفا على استحباب ذكر الجماعة في المساجد و غيرها إلا أن يشوش جهرهم على نائم أو مصل أو قارئ اھ (1/ 660)-
و فی الدر المختار : و إذا ضاق فللمصلي إزعاج القاعد و لو مشتغلا بقراءة أو درس اھ (1/ 662)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بہادر علی سرور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 13929کی تصدیق کریں
0     755
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • چوری کی بجلی سے پنکھا چلاتے ہوئے بسم اللہ کہنا

    یونیکوڈ   قوانین کی خلاف ورزی 0
  • واپڈا والوں سے بات کرکے بغیر میٹر بجلی استعمال کرنا

    یونیکوڈ   قوانین کی خلاف ورزی 0
  • حکومت کی جانب سے مقررہ تنخواہ ملازمین کو نہ دینا

    یونیکوڈ   قوانین کی خلاف ورزی 0
  • مسجد میں نماز باجماعت کے متصل بعد لاؤڈ اسپیکر پر بیان وغیرہ کرنا

    یونیکوڈ   قوانین کی خلاف ورزی 0
  • کسٹم ڈیوٹی ادا کیے بغیر گاڑیاں مولووی حضرات کا اپنے استعمال میں رکھنا

    یونیکوڈ   قوانین کی خلاف ورزی 0
  • کسی خاتون کو اس کے شوہر سے طلاق دلانا

    یونیکوڈ   قوانین کی خلاف ورزی 0
Related Topics متعلقه موضوعات