جب ہماری ریاست نے اعلان کیا ہے بتیس ہزار(32000) دینے کا ، اگر کوئی کمپنی بتیس ہزار سیلری نہیں دیتی ، تو اس کے بارے میں رہنمائی فرمائیں۔ عین نوازش ہو گی!
واضح ہو کہ عقدِاجارہ کے اندر اجرت اجیر (ملازم) اور مستاجر (مالک) کی باہمی رضامندی سے طے کی جاتی ہے ، حکومت کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں، لہذا صورتِ مسؤلہ میں اگر کوئی کمپنی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ تنخواہ سے کم تنخواہ دے رہی ہو اور اس کے تحت کام کرنے والے ملازم اس پر راضی ہوں ، تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ہے ،تاہم اگر کمپنی مالکان مذکور تنخواہ دے سکتے ہوں تو ملازمین کی ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے کم از کم اتنی تنخواہ دینی چاہیئے۔
کما فی الدر المختار: (و لا يسعر حاكم) لقوله - عليه الصلاة و السلام - «لا تسعروا فإن الله هو المسعر القابض الباسط الرازق» (إلا إذا تعدى الأرباب عن القيمة تعديا فاحشا فيسعر بمشورة أهل الرأي) اھ (339/6).