السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! محترم مفتی صاحب دامت برکاتہم،
امید ہے کہ مزاجِ گرامی بخیر ہوگا۔ ایک نہایت اہم خاندانی اور شرعی معاملہ میں قرآن و سنت اور فقہِ اسلامی کی روشنی میں رہنمائی مطلوب ہے تاکہ مرحومہ والدہ کے ترکہ کی تقسیم مکمل طور پر شرعی اصولوں کے مطابق انجام دی جا سکے اور بعد میں کسی قسم کا حق تلفی یا گناہ نہ ہو۔
تفصیلی سوال:
میری والدہ محترمہ کا انتقال 20 اپریل 2026 کو اچانک دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہوا۔ ان کے انتقال کے چالیس (40) دن 30 مئی 2026 کو مکمل ہو رہے ہیں۔
انتقال سے تقریباً دو دن قبل، یعنی 18 اپریل 2026 کو، والدہ محترمہ نے میری بڑی بہن کو واضح طور پر یہ بات فرمائی کہ ان کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد میں سے ان کی سب سے چھوٹی بیٹی کو کوئی حصہ نہ دیا جائے۔
اسی نوعیت کی بات والدہ محترمہ نے میری دوسری بڑی بہن سے بھی کی، اور مجھ سے بھی الگ طور پر یہی خواہش اور ہدایت بیان فرمائی۔
والدہ محترمہ نے اپنی زندگی میں متعدد مرتبہ یہ بھی فرمایا تھا کہ وہ اپنی جائیداد اپنی حیات ہی میں شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم کرنا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد اپنی دو بڑی بیٹیوں کے درمیان تقسیم کرنا چاہتی تھیں، مگر اچانک طبیعت خراب ہونے اور دل کا دورہ پڑنے کے باعث انہیں اس کا موقع نہ مل سکا۔
واضح رہے کہ والدہ محترمہ اور چھوٹی بیٹی کے درمیان کافی عرصہ سے شدید خاندانی اختلافات اور ناچاقی موجود تھی۔ ان اختلافات کی چند وجوہات درج ذیل ہیں:
1. اس کی پہلی شادی کے بعد طلاق ہونا۔
2. طلاق کے بعد اپنے بچوں کے ساتھ جس گھر میں رہائش پذیر تھیں، اسی گھر کے مالک کے بیٹے، جو عمر میں ان سے تقریباً بیس (20) سال چھوٹا تھا، کے ساتھ گھر والوں کی مرضی اور رضامندی کے بغیر گھر سے جا کر عدالت میں شادی کرنا۔
3. مرحوم والد کے ترکہ کی تقسیم کے دوران بھی والدہ محترمہ اور اس بیٹی کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوئے۔ والدہ محترمہ کا مؤقف تھا کہ اس بیٹی نے وراثت کی تقسیم میں اپنے شرعی حصے سے زائد مالی مطالبات کیے، جنہیں والدہ محترمہ نے مجبوری اور خاندانی دباؤ کے تحت کسی حد تک پورا بھی کیا، لیکن اس تمام صورتحال سے وہ شدید دلی رنج اور ذہنی اذیت کا شکار رہیں۔
ان تمام معاملات کی بنا پر والدہ محترمہ زندگی بھر اس بیٹی سے ناراض رہیں اور متعدد مواقع پر اپنی دوسری اولاد کے سامنے یہ خواہش ظاہر کرتی رہیں کہ اس بیٹی کو ان کی ذاتی جائیداد میں سے کوئی حصہ نہ دیا جائے۔
تاہم والدہ محترمہ نے اپنی زندگی میں نہ تو کوئی باقاعدہ رجسٹرڈ ہبہ (Gift) کیا، نہ کسی جائیداد کی قانونی منتقلی کی، اور نہ ہی کوئی تحریری وصیت موجود ہے۔ صرف زبانی طور پر اپنی خواہش اور ناراضی کا اظہار کرتی رہی تھیں۔
اب قرآن و سنت، فقہِ حنفی اور شرعی اصولوں کی روشنی میں درج ذیل امور پر تفصیلی رہنمائی مطلوب ہے:
1. کیا والدہ محترمہ کے انتقال کے بعد ان کے ترکہ کی شرعی تقسیم میں وہ بیٹی اپنے شرعی حصے کی حق دار ہو گی یا نہیں؟
2. والدہ محترمہ کی زبانی خواہش، ناراضی اور ہدایات، جو انہوں نے دو بڑی بیٹیوں کے سامنے متعدد مرتبہ ظاہر کیں، ان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
3. اگر مرحومہ نے زندگی میں جائیداد عملاً کسی کے قبضہ یا نام منتقل نہیں کی، صرف ارادہ یا خواہش ظاہر کی تھی، تو کیا ایسی زبانی خواہش شرعاً نافذ سمجھی جائے گی؟
4. اگر کوئی وارث مرحومہ کی خواہش کی بنیاد پر دوسرے وارث کو حصہ نہ دے تو کیا یہ شرعاً جائز ہوگا یا حق تلفی شمار ہوگی؟
5. اس پورے معاملے میں تمام ورثاء کے لیے شرعی طور پر درست اور محتاط طرزِ عمل کیا ہونا چاہیے؟
* براہِ کرم قرآن و سنت، احادیثِ مبارکہ اور فقہِ اسلامی کی روشنی میں مفصل اور مدلل رہنمائی فرما دیں تاکہ مرحومہ کے ترکہ کی تقسیم مکمل طور پر شریعت کے مطابق انجام دی جا سکے۔
واضح رہے کہ میراث محض ایک مالی حق نہیں بلکہ یہ شرعی حق ہے، جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ورثاء کے لیے مقرر کیا گیا ہے، اس لیے مورث کی ناراضگی یا خواہش کی وجہ سے یہ حق ختم نہیں ہوسکتا بلکہ مورث کے انتقال کے بعد اس کا ترکہ شرعاً از خود بحکم خداوندی اس کے شرعی ورثاء کی طرف منتقل ہوجاتا ہے اور ہر وارث اپنے مقررہ شرعی حصے کا حق دار بن جاتا ہے۔ لہٰذا صورت مسئولہ میں اگرچہ سائل کی بہن کا اپنی والدہ کے ساتھ باہمی اختلاف رکھنا اور انہیں ناراض کرنا شرعاً درست عمل نہیں تھا، جس پر اسے بصدق دل توبہ کرکے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنی چاہیے اور مرحومہ والدہ کے حق میں دعاء اور استغفار کا اہتمام بھی چاہیئے ، لیکن محض اس ناراضگی یا سائل کی والدہ کا انہیں حصہ نہ دینے کی خواہش ظاہر کرنے کی وجہ سے وہ اپنی والدہ کے ترکہ سے محروم نہیں ہوگی۔ نیز سائل کی والدہ نے اس بیٹی کو اپنی جائیداد سے محروم رکھنے کی اور اپنی جائیداد دیگر ورثاء میں تقسیم کرنے کی جو خواہش اور ہدایت زبانی طور پر متعدد مرتبہ ظاہر کی تھی، شرعاً اس کا بھی کوئی اعتبار نہیں؛ بلکہ وہ والدہ کے انتقال کے بعد دیگر ورثاء کی طرح اپنے شرعی حصے کی حق دار ہے اور اس کا مکمل ترکہ تمام ورثاء میں اصول میراث کے مطابق تقسیم ہوگا ، اور سائل یا اس کی دیگر بہنوں کے لیے والدہ کی اس خواہش کی بنیاد پر اس بہن کو اس کے شرعی حصے سے محروم رکھنا بھی جائز نہیں ،دیگر ورثاء اگر اس بہن کا حق روکنے کی کوشش کریں تو وہ بذریعہ عدالت اپنا حق وصول کرنے کی بھی مجاز ہوگی ۔
قال اللہ تبارک وتعالی فی القرآن الحکیم : يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ الایۃ (النساء : 11)
وفی سنن أبي داود:حدثنا عبد الوهاب بن نجدة حدثنا ابن عياش عن شرحبيل بن مسلم سمعت أبا أمامة سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول « إن الله قد أعطى كل ذى حق حقه فلا وصية لوارث (ج3 ص: 73 ط: دار الكتاب العربي ـ بيروت)
وفی الاشباہ والنظائر لابن نجیم : الثانية : لا يدخل في ملك الإنسان شيء بغير اختياره إلا الإرث اتفاقا (ج1 ص:347 باب القول فی الملک ط: دار الكتب العلمية،بيروت،لبنان)
وفی ردالمحتار: الإرث جبري لا يسقط بالإسقاط.(کتاب الدعوی، باب التحالف، فصل في دفع الدعاوی، 505/7، ط: سعید)
وفی الفتاوی الھندیۃ : لا يثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار،هكذا في الفصول العمادية (378/4، ط: دار الفکر)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2