میرے والد مرحوم اپنی ڈائری میں لکھ کر گئے ہیں کہ ان کے ذمہ انتالیس(39) روزے باقی ہیں ۔ میری راہ نمائی فرمائے میں فدیہ کے طور پر کتنی رقم ادا کروں؟جزاک اللہ!
سائل کے والد مرحوم کے ذمہ جو انتالیس روزے باقی ہیں ،ا گر سائل اب ان کی طرف سے ان روزوں کا فدیہ ادا کرنا چاہتا ہو، تو سائل کو چاہیئے کہ فدیہ دیتے وقت وہ ہر روزے کے بدلے ایک صدقہ فطر کے برابر رقم ( پونے دوسیر احتیاطاً دو کلو گندم کی قیمت ) کسی مستحق کو دیدے ، ایسا کرنے سے ان کے روزوں کا فدیہ ادا ہوجائے گا۔
کما فی الدر المختار: (ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة (وكذا حكم الوتر) والصوم، وإنما يعطي (من ثلث ماله) ولو لم يترك مالا يستقرض وارثه نصف صاع مثلا ويدفعه لفقير ثم يدفعه الفقير للوارث ثم وثم حتى يتم اھ (باب قضاء الفوائت ج:2 ص:73 ناشر: الحلبی)