پچھلے سال کے کچھ روزے طبیعت خراب ہو نے کی وجہ سے رہ گئے تھے، اب میں اس کو مکمل نہیں کر سکتا ہوں ، ،براہ مہربانی میری رہنمائی فرمائیں ،کیا میں اس میں فدیہ دے سکتا ہو ں،اگر دے سکتا ہوں تو ہر روزے کے لئے کتنا فدیہ دینا پڑے گا؟
سائل اگر واقعۃً اس قدر بیمار ہو کہ روزہ رکھنے کی بالکل بھی طاقت نہ ہو ،اور نہ ہی آئندہ صحت یابی کی امید ہو ، اور ماہر دیندار ڈاکٹر بھی بیماری کی وجہ سے روزہ رکھنے سے منع کر دے ،تو ایسی صورت میں سائل پرہر روزے کے بدلے صدقہ الفطر کے برابر گندم یا اس کی قیمت دینا لازم ہے ،تاہم بعد میں اگر صحت یابی ہوگئی تو ایسی صورت میں ان روزوں کی قضا لازم ہوگی ، اور جو فدیہ دیاتو وہ صدقہ شمار ہوگا ۔
کمافی فتاویٰ الھندیہ: (ومنها: كبر السن) فالشيخ الفاني الذي لا يقدر على الصيام يفطر ويطعم لكل يوم مسكينا كما يطعم في الكفارة كذا في الهداية. والعجوز مثله كذا في السراج الوهاج. وهو الذي كل يوم في نقص إلى أن يموت كذا في البحر الرائق ولو قدر على الصيام بعد ما فدى بطل حكم الفداء الذي فداه حتى يجب عليه الصوم هكذا في النهاية الخ (کتاب الصوم الباب الخامس،فی الأعذارالتی تبیع الأفطار ج1 ص208 ط:ماجدیہ)۔
وفی الدرالمختار: (وللشيخ الفاني العاجز عن الصوم الفطر ويفدي) وجوبا ولو في أول الشهر وبلا تعدد فقير كالفطرة لو موسرا وإلا فيستغفر الله هذا إذا كان الصوم أصلا بنفسه وخوطب بأدائه الخ(کتاب الصوم فصل فی العوارض المبیحہ لعدم الصوم ج2 ص427 ط:سعید)۔